مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 198 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 198

اور آیت استخلاف میں بھی اللہ نے اسناد لَيَسْتَخْلِفَنَّ اور لَيُمَكِّنَنَّ کی اپنی ہی طرف فرمائی ہے نہ کہ رسول کی طرف۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام بھی شیخ رکھا ہے: الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعَ وَقْتُهُ۔اور ایک اور الہام میں یوں آیا ہے کہ: مَثَلُک دُرِّ لا يُضَاعُ ـ ان الہامات سے ہماری کامیابی کا بین ثبوت ملتا دو وو ہے۔خلافت کی راہیں ہمیشہ کھلی ہیں: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (الحلم 14 اپریل 1908ء نمبر 37 جلد 12 صفحہ 2) ولایت اور امامت اور خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آئیں گے ان کا شمار خاص اللہ جل شانہ کو معلوم ہے۔وحی رسالت ختم ہو گئی مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم نہیں ہو گی، یہ سلسلہ ائمہ راشدین اور خلفاء ربانیین کا کبھی بند نہیں ہو گا۔“ قدرت ثانیہ کی خوش خبری (بدر 14 جون 1906 صفحہ 3) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنے بعد ظہور قدرت ثانیہ کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی۔ترجمہ : خدا نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے نبی غالب رہیں گے۔اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشا ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو جنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ جنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے: اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے، دوسرے ایسے وقت میں نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑھ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال 198