مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 197 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 197

دہانے پر پہنچ چکی ہے اگر اسے اپنی زندگی اور مسائل کا حل مطلوب ہے تو اسے لازماً اسلام کی طرف پلٹنا ہو گا۔نظامت خلافت راشدہ از ڈاکٹر میر معظم علی علوی صفحه 158 و 159 ناشر تحریک نظام خلافت راشده لندن برطانیہ 2001ء) وو خلافت احمدیہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دوسرا طریق انزال رحمت کا اِرسال مرسلین و نسبتین و ائمه و اولیا و خلفا ہے تا ان کی اقتدا و ہدایت سے لوگ راه راست پر آ جائیں اور ان کے نمونہ پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں۔سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعے سے یہ دونوں شق ظہور میں آ جائیں۔“ خلافت قیامت تک جاری رہے گی: (سبز اشتہار روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 462) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظام خلافت کے قیامت تک جاری رہنے کے متعلق فرماتے ہیں: " کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ظلتی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کیلئے دائمی طور پر بقا نہیں پر لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں ظلی طور ہمیشہ کیلئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔اصلاح و استحکام : 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه (353) " خلیفہ: صوفیا نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور بنی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے، جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرما دے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب نقص نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب میں سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا۔حضرت مولانا المکرم سید محمد احسن صاحب نے عرض کیا کہ حضور کے الہام میں بھی تو یہی مضمون ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى جَعَلَكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَـ 197