مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 169 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 169

بشارات رحمانیہ جلدا صفحہ 212 و 213 از مولانا عبدالرحمان مبشر صاحب) مستری حسن الدین آف سیالکوٹ بیان کرتے ہیں: ایک دالان کے اندر میں مع بہت سے دوستوں کے لیٹا ہوا ہوں درمیان دالان حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں، نوکر کھانا لایا، میں نے پوچھا: کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمالیا ہے؟ نوکر نے کہا: ابھی نہیں۔میں نے ادب کے لئے کھانا رکھ لیا اور پھر دیکھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل مولوی نور الدین صاحب کی ہو گئی ہے۔میں بڑا خوش ہوا اور نیند کھل گئی۔“ ” البدر “ 18 فروری 1909ء جلد 18 صفحہ 1) مکرم ناصر شاہ صاحب آف جموں بیان کرتے ہیں: میں نے ایک عجیب رؤیا دیکھا تھا جو گزارش کر رہا ہوں۔خواب میں دیکھا کہ حضور والا (حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ) کو محکمہ انجینئرنگ کا بھی سپرد کیا گیا ہے اور ایک بڑا عالی شان پل تیار ہونا ہے جس کے نقشے وغیرہ حضور رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہیں اور اس پل کی بنیادیں کچھ پہلے سے بھی کھدائی کی گئی ہوئی ہیں۔کسی وجہ سے وہ کام بند تھا اب اس پل کا کام دوبارہ حضور والا رضی اللہ عنہ شروع کرانے کے واسطے موقع پر تشریف لائے ہیں اور وہ کام خاکسار نابکار کی زیر نگرانی حضور والا رضی اللہ عنہ نے ختم کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ تمام نقشے حضور رضی اللہ عنہ نے مجھے دیئے اور حسن محمد ٹھیکیدار نے وہ کام شروع کیا اور بنیادوں میں روڑی وغیرہ ڈالنی شروع کر دی ہے پھر وہاں سے تھوڑے فاصلہ پر ہی حضور والا درس قرآن شریف کے لئے بیٹھ گئے ہیں اور بہت سے احباب درس میں شامل ہیں وہ عمارت بھی بڑی عالی شان ہے اور وہاں پر عجیب سی ہے خاکسار یہ نظارہ دیکھ کر دل میں ہی کہتا ہے کہ سبحان اللہ! سبحان اللہ! باوجود اس قدر کام کے أي ( حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ ) نے کبھی درس نہیں چھوڑا۔بعد درس قرآن شریف کے حضور والا رضی اللہ عنہ دوسرے کاموں کو ملاحظہ فرما کر واپس تشریف لائے ہیں اور یہ عاجز نہایت ادب کے ساتھ کھڑا تھا، حضور رضی اللہ عنہ میری طرف دیکھ کر مسکرائے ہیں اور ایک پختہ زینہ ہے اس رستہ سے آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے ہیں اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ مبارک حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک کی طرح تھا بلکہ دستار مبارک اور شملہ بھی اسی طرح ایک ہی انداز پر تھا تو میں کہتا ہوں کہ سبحان اللہ! اب تو حضرت صاحب اور مولوی صاحب میں کچھ فرق نہیں۔الحمد للہ رب العالمین 31 جنوری 1909 ء بوقت پانچ بجے صبح میں نیند سے اٹھا ہوں تو زبان پر یہ شعر جاری تھا : خدا نے فضل ނ بھیجا ہے فرزند لگا سینے میں پالیں خوب دلبند البدر 18 فروری 1909ء جلد 8 صفحہ 1) ضرت صاحبزادہ عبداللطیف رضی اللہ عنہ کو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت حضرت خلیفۃ امسیح الاول حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق خبر دے دی تھی چنانچہ روایت کے مطابق ایک دفعہ عجب خان تحصیل دار جو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت لے کر شہید مرحوم کے پاس آئے اور کہا کہ: میں نے حضرت صاحب علیہ السلام سے اجازت لے لی ہے لیکن مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے نہیں لی۔شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جا کر ضرور اجازت 169