مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 16
اتحاد بین المسلمین کیلئے تحریک: سیاسی تغیرات ملکی اپنے ساتھ مذہبی خطرات بھی لا رہے تھے۔وہ مسلمان جو پہلے ہی اقتصادی طور پر ہندوؤں کے دست نگر اور دینی طور پر ان کے زیر اثر تھے اور تعلیمی اور دنیوی ترقیات سے محروم چلے آ رہے تھے اور ان کا تبلیغی مستقبل بھی تاریک نظر آرہا تھا۔چنانچہ گاندھی جی کا اخبار سٹیٹس مین (States Man میں ایک انٹرویو شائع ہوا کہ سوارج (ملکی حکومت) مل جانے کے بعد اگر غیر ملکی مشنری ہندوستانیوں کے عام فائدہ کیلئے روپیہ خرچ کرتا چاہیں گے تو اس کی تو انہیں اجازت ہو گی لیکن اگر وہ تبلیغ کریں گے تو میں انہیں ہندوستان سے نکلنے پور مجبور کر دوں گا جس کے معنے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ سوارج میں مذہبی تنبلیغ بند ہو جائے گی۔اس کے علاوہ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم وستم کے واقعات برابر ہو رہے تھے۔پہلے بنارس میں فساد ہوا پھر آگرہ اور میرزا پور میں اور پھر کانپور میں مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس نازک موقع پر مارچ1931 ء مسلمانوں کو پھر اتحاد کی پرزور اور تلقین فرمائی اور نصیحت کی کہ اگر مسلمان ہندوستان میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔تو انہیں یہ سمجھوتہ کرنا چاہئے کہ اگر دیگر قوموں کی طرف سے کسی اسلامی فرقہ پر ظلم ہو تو خواہ اندرونی طور پر اس سے کتنا ہی شدید اختلاف کیوں نہ ہو اس موقع پر متفق ہو جائیں گے۔تحریک اتحاد کے تعلق میں جماعت احمدیہ کی کوشش کہاں تک بار آور ہوئیں اس کا اندازہ ایک ہندو اخبار کے حسب ذیل الفاظ سے لگ سکتا ہے۔اخبار آریہ ویرہ لا ہور نے لکھا۔رشی دیانند اور منشی اندرمن کے زبر دست اعتراضات کی تاب نہ لا کر مرزا غلام احمد قادیانی نے احمدیہ تحریک کو جاری کیا۔احمدیہ تحریک کا زیادہ تر حلقہ کار مسلمانوں کے درمیان رہا۔۔۔۔۔۔اس جماعت کے کام نے مسلمانوں کے اندر حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی ہے۔۔۔۔۔۔اس تحریک نے مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔آج مسلمان ایک طاقت ہیں، مسلمان قرآن کے گرد جمع ہو گئے۔“ تاریخ احمدیت۔جلد 5 صفحہ 271،270) تحریک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اتحاد بین المسلمین کی تحریک: حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے بالکل شروع میں اتحاد بین المسلمین کی تحریک فرمائی جو پاکستان کے اخبارات نے بھی مختلف شماروں میں شائع کی۔اخبار تعمیر راولپنڈی نے لکھا: احمد یہ فرقہ کے سر براہ مرز اناصر احمد نے دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی بہبود کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں اب وقت ہے کہ متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کیا جائے۔احمد یہ فرقہ کے سربراہ نے تجویز کیا ہے کہ پاکستان کے مختلف فرقوں کا ایک مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہئے تا کہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے کوئی مشترکہ پروگرام تیا ر کیا جا سکے۔“ اخبار جنگ کراچی نے لکھا: احمدیہ فرقہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے تجویز پیش کی ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو سات سال کی مدت کے لئے یہ طے کر لینا چاہئے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لئے سر توڑ کوشش 16