مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 132 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 132

ہیں۔اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس زیادہ ہے وہ شیطان سے ہے۔“ سیدنا حضرت خلیفہ المسح الاول رسومات کے بد نتیجہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 66 ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 46) انسان میں ایک مرض ہے جس میں یہ ہمیشہ اللہ کا باغی بن جاتا ہے اور اللہ کے رسول اور نبیوں اور اس کے اولوالعزموں اور ولیوں اور صدیقوں کو جھٹلاتا ہے، وہ مرض عادت، رسم و رواج اور دم نقد ضرورت یا کوئی خیالی ضرورت ہے۔یہ چار چیزیں ہیں۔میں نے دیکھا ہے چاہے کتنی نصیحتیں کرو جب وہ اپنی عادت کے خلاف کوئی بات دیکھے گا یا رسم کے خلاف یا ضرورت کے خلاف تو اس سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کرے گا (خطبات نور۔خطبہ جمعہ فرمودہ 19 ستمبر 1913ء۔صفحہ 650) سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فطرت انسانی کو اللہ تعالیٰ نے پاک بنایا ہے لیکن اس میں رسم و رواج کا گند مل کر اسے خراب کر دیتا ہے۔“ سید نا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: (تفسیر کبیر جلد 3 صفحه 405) میں چاہتا ہوں کہ احباب جماعت احمدیہ اور ہمت کریں اور اپنے نکاحوں کو رسوم و بدعات سے الگ کر کے بالکل سنت نبوی کے مطابق کریں تاکہ نکاح کی حقیقی غرض قائم ہو۔“ (خطبہ نکاح فرموده 13 مئی 1916ء از خطبات محمود جلد 3 صفحه 20) سید نا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: فضول رسمیں قوم کی کی گردن میں زنجیر میں اور طوق ہوتے ہیں جو اسے ذلت اور ادبار کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں۔سید نا حضرت مصلح موعودنور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: (خطبہ نکاح فرموده 27 مارچ 1931ء از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 301) کئی قسم کی رسمیں اور بدعتیں ہیں جن کے کرنے کیلئے عورتیں مردوں کو مجبور کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر اس طرح نہ کیا گیا تو باپ دادا کی ناک کٹ جائے گی۔گویا وہ باپ دادا کی رسموں کو چھوڑنا پسند نہیں کرتیں، کہتی ہیں کہ اگر ہم نے رسمیں نہ کیں تو محلہ والے نام رکھیں گے لیکن خدا تعالیٰ ان کا نام رکھے تو اس کی ان کو پروا نہیں ہوتی۔محلہ والوں کی انہیں بڑی فکر ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ انہیں فاسق اور کافر قرار دے دے تو اس کا کچھ خیال نہیں ہوتا، کہتی ہیں یہ وز تارا ہے اسے چھوڑ نہیں سکتیں حالانکہ قائم خدا تعالیٰ کا وہی ”ور تا را‘ رہے گا باقی سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔“ اوڑھنی والیوں کے لئے پھول صفحہ:34 و 35) سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے۔یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر بدعت اور ہر بد رسم شرک کی ایک راہ ہے اور کوئی شخص جو توحید خالص پر قائم ہونا چاہے، توحید خالص پر قائم نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمام بدعتوں اور تمام بد رسوم کو مٹا نہ دے۔ہمارے معاشرے میں خاص طور اور دنیا کے مسلمانوں میں عام طور پر بیسیوں، سینکڑوں بلکہ شائد ہزاروں بد رسمیں داخل ہو چکی ہیں۔احمدی پر 132