مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 124
باوجود مخالف حالات کے اسے دنیا میں قائم کرے گا۔یہ ایک زبردست ثبوت خلافت حقہ کی تائید میں ہے اور جب اس پر غور کیا جاتا ہے تو خلفا کی صداقت پر خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان نظر آتا ہے۔“ ( تفسير كبير تفسير سورة نور آیت: 56 صفحہ 375) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پہلے سلسلۂ خلافت کی ایک شاخ تو جو بعد نبی مقبول ملاقه تیره خلفا و مجددین پر مشتمل تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ختم ہو گئی۔اگلی صدی کے مجدد کی ہر ایک کو تلاش کرنی چاہئے لیکن ہر آنے والی صدی کے سر پر جو خص مجدد کی تلاش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( جو آخری ہزار سال کے مجدد ہیں) کے علاوہ کوئی ایسا چہرہ دیکھتا ہے جو آپ کے خلیفہ کا نہیں، اور وہ بھی خلافت راشدہ کا حصہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اظلال کی شکل میں جاری ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں تم ایمان کی اور اعمال صالحہ کی شرط پوری کرتے رہنا تمہیں قدرت ثانی کے مظاہر یعنی خلافت راشدہ کا اللہ تعالیٰ قیامت تک وعدہ دیتا ہے۔خدا کرے کہ محض اسی کے فضل سے جماعت عقائد صحیحہ اور پختہ ایمان اور طیب اعمال کے اوپر قائم رہے تا کہ اس کا یہ وعدہ قیامت تک جماعت کے حق میں پورا ہوتا رہے۔" اختتامی خطاب سالانہ اجتماع انصار اللہ 27 اکتوبر 1968ء - ماہنامہ انصار اللہ ربوہ فروری 1969ء) سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث مجددین کی عرفان انگیز تشریح کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم نے کہا ہے کہ گاہے گاہے سال میں ایک آدھ بار منافقین کو جو شیطان کا آلہ کار بن جاتے ہیں جھنجھوڑتے رہنا چاہئے تا کہ وہ اپنے مقام کو پہچانیں اور حدیث شریف میں یہ جو آیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ ہوں گے جو تجدید دین کا کام کریں گے اس کو لے کر اور باقی ہر چیز کو پس پشت ڈال کر انہوں نے بعض لوگوں کے دماغوں میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے وہ ہیں تو گنتی کے چند ہی مگر اس وقت زیادہ تر کراچی کی جماعت میں تیزی دکھا رہے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں ایسے لوگوں سے جو وسوسہ موسہ ڈالتے اور جماعت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تم بھول میں نہ رہو۔خدا تعالیٰ کی یہ پیاری جماعت اور اس کے یہ پیارے نوجوان اور میرے بچے تمہاری دھوکا دہی میں کبھی نہیں آئیں گے انشاء اللہ۔اب میں مختصراً کچھ اس حدیث کے متعلق کہنا چاہتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ اس حدیث کے بارہ میں پہلوں نے کیا کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا اور اس حدیث کا مقام کیا ہے؟ یہ حدیث جو صحاح ستہ میں نہ صرف ایک کتاب میں صرف ایک بار بیان ہوئی ہے ، یہ ہے۔اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا - کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لئے ”من“ کھڑے کرے گا (مَنْ میں خاص زور دے رہا ہوں) یعنی اللہ تعالیٰ کئی لوگ ایسے پیدا کرے گا جو دین کی تجدید کریں گے اور اس پر کی رونق بڑھانے والے ہوں گے اور اگر بدعتیں بیچ میں داخل ہو گئیں ہوں گی تو وہ ان کو نکالیں گے اور اسلام کا نہایت صاف اور خوبصورت چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔یہ حدیث ابوداؤد میں ہے۔مستدرک میں ہے اور شاید ایک اور کتاب میں بھی ہے۔صرف تین کتابوں میں ہمیں یہ حدیث ڈھونڈ نے سے ملی ہے۔اس کے مقابلے میں یہیں بتا دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں مہدی اور مسیح ہوں۔مسیح کے متعلق میں نے جو حوالہ پڑھ کر سنایا ہے اس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جس مسیح کے متعلق خبر دی گئی تھی کہ وہ شیطان کے ساتھ آخری جنگ لڑے گا وہ میں ہی مسیح موعود ہوں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ مسیح کے متعلق بشارتیں دی گئی ہیں جو کئی ہزار کتب میں پائی جاتی ہیں۔کئی ہزار کتابوں میں 124