مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 123 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 123

سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نور کو آگ کی شکل میں دیکھا اور فرمایا انسى انستُ نَارًا، میں نے آگ دیکھی ہے۔اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ اس آگ کو نہیں دیکھ رہے تھے۔پس انستُ نَارُ۔میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کے وجود میں ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ظہور اس دنیا میں بطور نار کے ہوتا ہے یعنی کوئی تیز نظر والا ہی اسے دیکھ سکتا ہے جب وہ نبی کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے تو پھر وہ نور ہو جاتا ہے یعنی لیمپ کی طرح اس کی روشنی بہت تیز ہو جاتی ہے پھر نبوت میں یہ نور آ کر مکمل ہو جاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود ہوتا ہے کیونکہ نبی بھی موت سے محفوظ نہیں ہوتے۔پس اس روشنی کو دُور تک پہنچانے کیلئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی سو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک ری فلیکٹر (reflector) بنایا جس کا نام خلافت ہے جس طرح سے طاقچہ تین طرف سے روشنی کو روک کر صرف اس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اس کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خلفا کی قوت قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہو رہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پرگرام کے تحت استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔اگر خلافت نہ ہوئی تو بعض کاموں پر تو زیادہ طاقت خرچ ہو جاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شقاق کی وجہ سے کسی نظام کے ماتحت جماعت کا روپیہ اور اس کا علم اور اس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔غرض خلافت کے ذریعہ سے الہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے مکمل ہوتا ہے ممتد اور لمبا کر دیا جاتا ہے۔“ (تفسیر کبیر تفسیر سورۃ نور آیت:36 صفحہ 320) سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ میں خلافت کا اصولی ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کا وجود بھی نبوت کی طرح ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے جلال الہی کے ظہور کے زمانہ کو ممتد کیا جاتا ہے اور الہی نور کو ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے فائدے کیلئے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔اس مضمون کے معلوم ہونے پر طبعا قرآن کریم پڑھنے والوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ خدا کرے کہ ایسی نعمت ہمیں بھی ملے سو وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُم کی آیات میں اس خواہش کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا کہ یہ نعمت تم کو بھی اسی طرح ملے گی جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کو ملی تھی۔“ ( تفسير كبير تفسیر سورۃ نور آیت:36 صفحہ 323) سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے مگر اس کے نور کو مکمل کرنے کا ذریعہ نبوت ہے اور اس کے بعد اس کو دنیا میں پھیلا نے اور اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ خلافت ہی ہے۔گویا نبوت ایک چمنی ہے جو اس کو آندھیوں سے محفوظ رکھتی ہے اور خلافت ایک ری فلیکٹر (reflector) ہے جو اس کے نور کو دور تک پھیلاتا ہے۔" 66 سیدنا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: چوتھی ( تفسير كبير تفسير سورة نور۔آیت 36 صفحہ 328) علامت خلفا کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ ان کے دینی احکامات اور خیالات کو اللہ تعالیٰ دنیا میں پھیلا ئے گا۔چنانچہ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمُ که الله تعالی ان کے دین کو تمکین دے گا اور 123