مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 110 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 110

66 ہے اس کے لیے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں! بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔“ (الفضل 11 اپریل 1914ء) پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ان پر زور خطابات سے اور جو آپ رضی اللہ عنہ نے اس وقت براہ راست انجمن پر بھی ایکشن لیے، جتنے وہ لوگ باتیں کرنے والے تھے وہ سب بھیگی بلی بن گئے، جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور وقتی طور پر ان میں کبھی کبھی ابال آتا رہتا تھا اور مختلف صورتوں میں کہیں نہ کہیں جار کر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے لیکن انجام کا رسوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں ملا۔پھر حضرت خلیفۃ اسیح الاول کی وفات ہوئی۔“ میں فرمایا:۔66 (خطبه جمعه فرموده 21 مئی 2004 ء از خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 341) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خلافت ثانیہ کے انتخاب خلافت اور منکرین کے رد عمل کے بارہ اس کے بعد پھر انہیں لوگوں نے سر اٹھا یا اور ایک فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی، جماعت میں پھوٹ ڈالنے کی وشش کی اور بہت سارے پڑھے لکھے لوگوں کو اپنی طرف مائل بھی کر لیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر خلافت کا انتخاب ہوا تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو ہی جماعت خلیفہ منتخب کرے گی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ان شور مچانے والوں کو ، انجمن کے عمائدین کو یہ بھی کہ دیا کہ مجھے کوئی شوق نہیں خلیفہ بننے کا تم جس کے ہاتھ پر کہتے ہو میں بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں، جماعت جس کو چنے گی میں اسی کو خلیفہ مان لوں گا لیکن جیسا کہ میں نے کہا ان لوگوں کو پتہ تھا کہ اگر انتخاب خلافت ہواتو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی خلیفہ منتخب ہوں گے اس لیے وہ اس طرف نہیں آتے تھے اور یہی کہتے رہے کہ فی الحال خلیفہ کا انتخاب نہ کروایا جائے، ایک، دو چار دن کی بات نہیں، چند مہینوں کے لیے اس کو آگے ٹال دیا جائے، آگے کر دیا جائے اور یہ بات کسی طرح بھی جماعت کو قابل قبول نہ تھی، جماعت تو ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونا چاہتی تھی۔آخر جماعت نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو خلیفہ منتخب کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس وقت بھی مخالفین کا یہ خیال تھا کہ جماعت کے کیونکہ پڑھے لکھے لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور خزانہ ہمارے پاس ہے اس لئے چند دنوں بعد ہی یہ ہو جائے گالیکن اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی رحمت کا ہاتھ رکھا اور خوف کی حالت کو پھر امن میں بدل دیا اور دشمنوں کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں۔“ مله ختم سلسلہ (خطبه جمعه فرموده 21 مئی 2004 ء از خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 341) خلافت ثانیہ کے دور میں خلافت کے خلاف اٹھنے والے تین فتنے : (1 پہلا فتنہ 1928 ء میں مستریوں نے کھڑا کیا۔مستریوں کی مالی بد معاملگی کی وجہ سے دفتر امور عامہ نے ان کے خلاف ایکشن لیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ذات پر براہ راست حملے کرنے لگے اور قادیان سے ہی ایک اخبار ” مباہلہ کے نام سے شائع کرنا شروع کر دیا بعد ازاں قادیان چھوڑ کر بٹالہ منتقل ہوگئے اور مسلسل یہ اصرار کرتے رہے کہ خلافت کے بارے میں ان کے ساتھ مباہلہ کیا جائے۔110