خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 69 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 69

۶۸ (1) تلاوت آیات اللہ تعالی نبی کریم ﷺ کا اور پھر آپ کے فل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام یہ بتاتا ہے کہ " يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ “ آپ اپنے متبعین پر خدا کا کلام پڑھتے ہیں۔آپ کے اسی کام کو آپ کے خلفاء جاری رکھتے ہیں اور آگے چلاتے ہیں۔آیت کے ایک معنی نشان کے بھی ہیں۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلافت کی تائید میں اپنے نشان ظاہر فرماتا ہے اور اسی کے ذریعہ اور اسی کے طفیل مومنوں کو بھی انفرادی طور پر اپنے پیار اور قرب کے نشان عطا فرماتا ہے۔(۲) تزکیه نفوس فرمایا: ”وَ يُزَكَيْهِم “ اور انہیں پاک کرتے ہیں۔یہی کام خلفاء بھی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے اندر لی طور پر کمالات نبوت رکھتا ہے تو ان میں بھی ویسی ہی قوت تزکیہ پیدا ہوتی ہے کہ وہ نبی کے ظل میں مومنوں کے تزکیہ نفوس کا ذریعہ بنتے ہیں اور اس کا سامان کرتے ہیں۔اس آیت کریمہ کے مطابق در حقیقت نبی کے بعد خلفاء اس دنیا میں اصل مرگی ہوتے ہیں۔(۳) تعلیم کتاب فرمایا: ”وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَاب“ اور وہ انہیں کتاب سکھاتے ہیں۔نبی علوم قرآن کا سرچشمہ ہے۔اس کے ظلت میں اس کا خلیفہ علوم قرآن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقع :۸۰) کہ قرآنِ کریم کو صرف پاک کئے ہوئے ہی چھو سکتے ہیں۔اس آیت قرآنی کے مطابق خلیفہ راشد سے بڑھ کر علوم قرآن کا وارث اور کوئی نہیں قرار پاتا۔پہلے اللہ تعالیٰ نے یزکیھم کے ذریعہ اسے مرگی قرار دیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگر