خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 451 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 451

۴۴۷ " کوئی نہیں جو تمہاری راہ روک سکے" اے رات ! ستاروں سے کہہ دے، گلشن کی بہاروں سے کہہ دے ہم ڈرتے نہیں طوفانوں سے، موجوں کے اشاروں سے کہہ دے آزاد کریں ہر حلقہ شب سے، سورج کو سچائی کے ضامن ہیں تمہاری ہستی کے، کرنوں کے اجالوں سے کہہ دے جو دجل کی تیرہ شب میں بھی خورشید و قمر سے چمکے ہیں دنیا کا وہ روشن مستقبل ہم ہیں اندھیاروں سے کہہ دے تھامے ہیں محبت کا پرچم، ہم اہل صفا، ہم اہلِ حرم ہر بازی تم کو مات کریں، نفرت کے ماروں سے کہہ دے لڑ کر سب طوفانوں سے ،چیر کے سب منجدھاروں کو پہنچیں گے تم تک وعدہ ہے، ساحل سے، کناروں سے کہہ دے