خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 34
۳۴ المسیح الثالث بیان فرماتے ہیں کہ دو دوسرے سلسلہ کے خلفا ءامت صلحائے امت ، ائمہ امت خلافت راشدہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔اگر اس سے اپنا رشتہ قطع کر لیں تو بلعم باعور بن جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا ان سے تعلق قطع ہو جاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آجاتے ہیں۔لیکن جب تک ان کا رشتہ قائم رہتا ہے، خلافت راشدہ کا خلیفہ ان تمام کا سردار ہوتا ہے۔اور بڑا خوش قسمت ہے وہ خلیفہ وقت جس کے ماتحت دوسروں کی نسبت اس دوسرے سلسلہ کے خلفاء اور ائمہ موجود ہوں۔“ (الفضل ربوه ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۸ء) حضرت خلیفہ امسح الثالث نے جس دوسرے سلسلہ کا یہاں ذکرفرمایا ہے یہ ایک ایسا سلسلۂ خلافت ہے جو خلافت کا منصب اور نام تو نہیں رکھتا مگر نبوت وخلافت راشدہ کی برکات کے طفیل خلافت کی صفات سے متصف اور اس کے رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔وہ خلیفہ وقت کے تحت اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کی خلافت کو عملی رنگوں میں جاری کئے ہوئے ہوتے ہیں۔اس مضمون کو حضرت سید محمد اسمعیل شہید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: دو لفظ خلیفہ کو بمنزلہ لفظ خلیل اللہ کلیم اللہ، روح الله حبیب اللہ، یا صدیق اکبر، فاروق اعظم ، ذوالنورین، مرتضی مجتبی ، اور سید الشہداء، یا ان کی مانند شمار نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک لقب بزرگانِ دین میں سے ایک خاص بزرگ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے۔اس لقب کے اطلاق سے اسی بزرگ کی ذات تصور کی جاتی ہے۔اور اسی طرح یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ لفظ ” خلفائے راشدین خلفائے اربعہ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے انہی بزرگوں کی ذات تصور ہوتی ہے۔حالتها وکلا بلکہ اس لقب کو بمنزلہ ولی اللہ، مجتہد، عالم، عابد، زاہد،