خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 33
۳۳ خلافت اس وقت قائم ہے اور پہلے بھی تھا کئی بزرگ اس شکل میں بھی آئے۔لیکن خلافت ہی کی جو دوسری شکلیں ہیں ان میں بھی آئے۔جیسے محد ثیت ہے۔یہ بھی خلافت ہی کی ایک شکل ہے۔یا ان میں اولیاء اللہ اور مقربین الہی ہیں۔اللہ تعالیٰ جن کو یہ کہتا ہے کہ اس محدود دائرہ میں، اس تھوڑے وقت میں تم میرے بندوں کی اصلاح کرو اور میرے دین کی مدد کرو الفضل ربوه ۱۰ را گست ۱۹۷۶ء) ج: خلافت راشدہ کے ماتحت صلحاء اور ائمه: خلافت کی یہ وہ قسم ہے جو خلافت راشدہ سے وابستہ افراد میں جاری ہوتی ہے اور دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور اعمال صالحہ کے اس مقام پر فائز ہوتے ہیں جس پر خلافت راشدہ کا وعدہ استوار ہوتا ہے۔خلیفہ راشد کی جماعت کے یہ مومنین اپنے اندر اس خلافت کو جذب کئے ہوتے ہیں اور اپنے اعمال میں جاری کئے ہوتے ہیں جن پر خلافت راشدہ کا نظام قائم ہوتا ہے۔یہ لوگ نہ ہوں تو خدا تعالیٰ کی خلافت کی شرائط و علامات کے معدوم ہونے کی وجہ سے دنیا میں خلافت راشدہ کا نظام جاری نہیں ہوتا۔خلافت راشدہ کا وعدہ ان لوگوں میں پورا ہوتا ہے جو انفرادی طور پر اپنے اپنے اندر خدا تعالیٰ کی خلافت کو قائم کر لیتے ہیں۔ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ ایک خلیفہ کو خلیفہ راشد بنا کر کھڑا کرتا ہے جو اُن کی ذاتی و انفرادی خلافتوں کی تصدیق کے نشان کے طور پر ان کے سروں کا تاج ہوتا ہے اور وہ ان کا سردار قرار پاتا ہے۔جس جماعت میں ایسے لوگ نہ ہوں جن کے دل انفرادی طور پر خدا تعالیٰ کی خلافت کی آماجگاہ نہ ہوں تو وہ جماعت خلافت سے مغائر گویا ایک الگ اور مختلف جنس بن جاتی ہے۔اس وجہ سے وہ اس خلافت کو جو خلافت راشدہ ہے، اپنے سروں پر قائم نہیں کر سکتی جس کا خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے۔خلافت راشدہ کے تحت وہ جماعت آتی ہے جو ایمان اور اعمالِ صالحہ اور رشد کی وجہ خلافتِ راشدہ کی ہم جنس ہوتی ہے۔خلافت راشدہ کے تحت ایسی خلافت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ