خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 419 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 419

۴۱۵ خرابہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔یہاں بھی ویسی صفات والوں کے ایسے خدشات تھے کہ خلیفہ وقت کے فیصلوں اور اقدامات سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قائم کردہ سلسلہ اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے“۔ایسے لوگ دراصل اس ابتلاء سے پہلے خود اہلیستیت میں مبتلاء ہو چکے ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں کرتے کہ اس ابتلاء سے پہلے اور اس سلسلہ کے گرنے سے پہلے اس سے الگ ہو جائیں تا کہ بزعم خویش بچ جائیں۔منافقین کا یہ پر انا وطیرہ ہے کہ بل فریب سے بات کرتے ہیں اور کسی بزرگ ہستی کی گستاخی کے لئے زبان بے قابو ہورہی ہو تو لفظی چالا کی سے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کے خلاف زبان درازی مقصود ہو تو فلک کو بُرا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی جاتی ہے۔اسی وجہ سے آنحضرت ام نے افلاک یا گردشِ ایام کو بُرا بھلا کہنے سے سختی سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ در اصل تقدیر الہی کو بُرا کہنے کے مترادف ہے۔پس منافقین بھی خلیفہ وقت کو کوسنے کی جرات نہ پا کر کبھی اس کے بڑھاپے کو بُرا بھلا کہتے اور کبھی اس کی بیماری کو آڑ بنا کر مومنوں کی جماعت میں ” عزل خلیفہ کے جراثیم پھیلانے کی کوشش کرتے اور اس حقیقت کو فراموش کر دیتے کہ مومنوں کی سوسائٹی میں خلیفہ کا مقام اس سے بہت بڑھ کر ہے جو ایک خاندان کے ماحول میں ماں باپ کو حاصل ہوتا ہے یعنی ان ماں باپ کو جن کے بارہ میں قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر اُن میں سے دونوں یا ایک بوڑھے ہو جائیں ، تب بھی ( دامنِ دب ہاتھ سے نہ جانے دینا اور ) اُن کے سامنے اُف تک نہ کرنا۔