خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 418
۴۱۴ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ بڑھاپے اور جسمانی کمزوری کے باعث نا اہلی کا الزام: حضرت خلیفہ مسیح الاوان پرتنقید کا ایک یہ بیان بھی بنایا جاتا تھا کہ چونکہ آپ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، لہذا عمر کے طبعی تقاضے کے پیش نظر ( نعوذ باللہ ) طبیعت میں تلون اور ضدّ بہت بڑھ گئے ہیں۔اس ضمن میں بعض خطوط میں سے دو اقتباسات ملاحظہ فرمائیے: ا: خلیفہ صاحب کا تلوّن طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔اگر ذرا بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔سب حالات عرض کئے گئے مگر ان کا جوش فرو نہ ہوا اور ایک اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں“۔( خط ڈاکٹر مرز ایعقوب بیگ صاحب بنام سید حامد علی شاہ صاحب سیالکوئی بحوالہ سوانح فضلِ عمرؓ) حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سُن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پرواہی کرتے ہوئے شخصی وجاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے۔سلسلہ تباہ ہو تو ہومگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ٹلے۔وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنا تھا اور جو کہ بڑھے گا، وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے“۔(خط ڈاکٹر سیدمحمد حسین صاحب بنام سید حامد علی شاہ صاحب سیالکوئی بحوالہ سوانح فضل عمر) ان تحریروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض وساوس ہیں اور بعینہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسی ابلیس نے حضرت آدم کے خلیفتہ اللہ بننے کے وقت کی تھیں کہ اس کی وجہ سے بڑا فساد ہوگا اور خون