خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 404 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 404

▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ حقیقت اور ان جذبات کو بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الثالث فرماتے ہیں : جماعت احمد یہ بغیر امام کے کوئی وجود نہیں رکھتی اور جماعت احمدیہ وو کا امام ، جماعت احمدیہ کے بغیر وجود نہیں رکھتا۔پس یہ دونوں دراصل ایک ہی وجود کے نام ہیں اور ان کا باہمی اتحاد اور اتصال اور تعلق گہرا ، مضبوط اور مستحکم ہے۔“ (خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۵ء) اس ضمن میں یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ صرف خلیفہ وقت پر ہی نہیں ، قرآن کریم کی شہادت کے مطابق گزشتہ انبیاء پر بھی اسی قسم کے اعتراض کئے جاتے رہے ہیں۔بلکہ حضرت شعیب کی جمہوریت پسند قوم نے تو آپ کے انکار کی ایک بڑی دلیل یہ پیش کی کہ ہم اپنے معاملات میں تمہارے حکم کے تابع کیسے ہو سکتے ہیں۔اسی طرح تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ مدینہ کے یہودی اور دوسرے منافقین خود سید ولد آدم حضرت رسول اکرم ہم پر بھی اعتراض کرتے تھے اور اہل مدینہ کو اس بناء پر بد دل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اسلام کا رسول آمر بننے کی کوشش کرتا ہے۔نعوذ باللہ من ڈلک پس یہ جمہوریت کی رٹ کوئی نئے زمانہ کی پیداوار نہیں، نہ ہی جدید روشنی اور ترقی یافتہ تہذیب و تمدن سے اس کا کوئی تعلق ہے۔بلکہ جب سے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ” اولوالامر دنیا میں آرہے ہیں، جمہوریت کے نام پر ان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔اگر چہ دنیوی آمر اور مذہبی رہنما کے ” اولوالامر“ ہونے کے مابین قطبین کا بعد ہے۔لیکن آمر کے لفظی اشتراک کے باعث بعض اوقات فتنہ پرداز عامۃ الناس کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔آمر اور اولوالامر میں متعد ددوسرے بنیادی اختلافات کے علاوہ جن پر انسان ادنی سے تدبر سے اطلاع پا سکتا ہے، ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ آمر ایک مادر پدر آزاد اور جابر حاکم ہوتا ہے۔جس کی حکومت بیرونی پابندیوں سے نا آشنا اور جبر و اکراہ پر مبنی ہوتی ہے۔اس کے برعکس اولوالامر بیک وقت ایک پہلو سے آمر اور ایک پہلو سے مامور ہوتا ہے۔وہ براہ راست جسموں پر نہیں بلکہ دلوں کی