خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 372 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 372

۳۶۸ انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل و انصاف کو مد نظر رکھ کر تمام کام کرو۔ورنہ ہم تمہیں تباہ کر دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اس انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ تُلُوْ كاوَاتَاكُمْ مَالَمْ يُؤْتِ أَحَداً مِّنَ الْعَلَمِيْنَ (المائدہ:۲۱) یعنی اس قوم کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا۔إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاء کے ماتحت انہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ شُلُوکا کے ماتحت انہیں خلافتِ ملوکیت دی۔غرض پہلی خلافتیں دو قسم کی تھیں۔یا تو وہ خلافت نبوت تھیں۔اور یا پھر خلافت ملوکیت۔پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو اس سے یہ استنباط ہوا کہ پہلی خلافتوں والی برکات ان کو بھی ملیں گی اور انبیاء سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو سلوک کیا وہی سلوک وہ امت محمدیہ کے خلفاء کے ساتھ بھی کرے گا۔“ (خلافت راشده، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۲۹) وو دوسری آیات میں بادشاہوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے۔چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ کہ خدا اپنے قائم کردہ خلفاء کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہتا ہے۔اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ ان کے دین کو خدا تعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا۔بلکہ یہ اصول روحانی خلفاء کے متعلق ہی ہے۔پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس جگہ جس خلافت سے مشابہت دی گئی ہے وہ خلافت نبوت ہی ہے نہ کہ خلافتِ ملوکیت۔اسی طرح فرماتا