خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 371
۳۶۷ كَيْفَ تَعْمَلُونَ جو مسلمانوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے صاف بتلا رہے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے بادشاہوں کے واقعات بھی باہم متشابہ ہوں گے۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔اور جس طرح یہودی بادشاہوں سے قابل شرم خانہ جنگیاں ظہور میں آئیں اور اکثر کے چال چلن بھی خراب ہو گئے۔یہاں تک کہ بعض ان میں سے بدکاری، شراب نوشی ، خونریزی اور سخت بے رحمی میں ضرب المثل ہو گئے۔یہی طریق اکثر مسلمانوں کے بادشاہوں نے اختیار کئے۔ہاں بعض یہودیوں کے نیک اور عادل بادشاہوں کی طرح نیک اور عادل بادشاہ بھی بنے جیسا کہ عمر بن عبد العزیز۔(1) چھٹے ان بادشاہوں کے مثیلوں کا قرآن شریف میں ذکر ہے جنہوں نے یہودیوں کے سلاطین کی بدچلنی کے وقت ان کے ممالک پر قبضہ کیا 66 حضرت طلیقہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو (تحفہ گولڑو یہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۷،۳۰۶) پہلی خلافتیں یا تو خلافت موت تھیں جیسے حضرت آدم اور حضرت داؤدعلیہا السلام کی خلافت تھی اور یا پھر خلافت حکومت تھیں جیسا کہ فرمایا۔وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْطَةٌ ، فَإِذْكُرُوا الْآءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الاعراف: ۷۰) یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ قوم نوح کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا۔اور اس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولا ددی پس تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔اس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمت حکومت ہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے