خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 366 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 366

۳۶۲ کر اور کلامِ الہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے روح القدس خاص طور پر اس خلیفہ کوملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔“ فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲ حاشیه ) پس خلیفتہ اللہ خواہ وہ نبی ہو یا رسول یا محدّث یا خلیفہ راشد، ایک عظیم الشان وجود ہے جو فرشتوں کے جلو میں روحانی طور پر آسمان سے اترتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعلیم سے برعکس وساوس پیدا کرنے والے پر حجت قائم کرنے کے لئے ، اس تمہیدی تفصیل کے بعد ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلیفہ اول و ثانی رضی اللہ عنہما کی تحریرات اور پر عرفان تشریحات کو یکجائی نظر سے دیکھتے ہیں۔ان روشن تحریرات میں خلافت روحانی رباطنی اور خلافت ظاہری کی اصطلاحات کے صحیح حقیقی اور اصل معنوں کا تعین ہوتا ہے، جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش نظر تھے۔جہانتک حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے نزدیک خلافت احمدیہ کا تعلق ہے، آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت سے صرف ایک ہی خلافت مراد لی ہے جو نبی کے بعد خلافت راشدہ کا مرتبہ و مقام رکھتی ہے۔آپ نے اس تصویر خلافت کو اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہمیشہ آیت استخلاف کی تشریح و تعبیر قرار دیا ہے۔خلافت کے اسی تصور اور منصب کو آپ نے معتین طور پر جماعت میں قائم اور راسخ فرمایا۔آپ نے اس کے ساتھ کبھی کسی ظاہری خلافت کا تصور منسلک نہیں کیا۔اسی طرز پر آپ کی خلافت بھی ، خلافت راشدہ تھی جو خدا تعالیٰ کی قدرت ثانیہ کا مظہر تھی۔یہ وہ مقام و منصب خلافت ہے جس کے اسلوب پر جماعت میں خلافت راشدہ علیٰ منہاج النبوة كا نظام مستقل بنیادوں پر جاری ہوا ، جاری ہے اور جاری رہے گا۔آپ کے دور خلافت میں تمام صحابہ کا اسی عقیدہ پر ایمانی، اعتقادی اور عملی اجماع تھا۔یہی وجہ تھی کہ اس وقت خلافت کی روحانی رباطنی اور ظاہری قسموں پر کوئی بحث نہیں اٹھی۔کیونکہ جماعت کے عقائد کے مطابق یہ بحث نہ صرف یہ کہ غیر ضروری ہے بلکہ در حقیقت یہ کوئی بحث ہے ہی نہیں۔