خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 365 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 365

۳۶۱ میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے۔ایک انتظامی خلیفہ اور اس کے متوازی ایک روحانی خلیفہ کا نظریہ ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے وصال پر غیر مبائعین کا تھا۔ان کا خیال تھا کہ خلیفہ صرف بیعت لے، نمازیں پڑھا دے وغیرہ وغیرہ لیکن جماعت کا انتظام وانصرام انجمن کے اراکین کے سپر د ہو اور وہی جماعت کے انتظامی سربراہ ہوں۔اس تصو راور بد عقیدہ کے حاملین جس طرح شکست وریخت کا شکار ہوئے نیز وقت کے نبی کی نبوت سے منکر ہوئے وہ دیدہ عبرت کے لئے کافی بڑا سبق ہے۔بیک وقت دوخلیفوں کا تصور اپنے اندر یہ روح بھی رکھتا ہے کہ وہ خلیفہ جو ظاہری انتخاب کے ذریعہ منتخب ہوتا ہے، (نعوذ باللہ ) روحانیت سے خالی ہوتا ہے اور نعوذ باللہ وہ بے فیض ہے۔جبکہ روحانی خلیفہ روح القدس کے ہمراہ ہوتا ہے اور وہ آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ خیال ہی خلافت راشدہ کے حقیقی منصب کی تخفیف اور تو ہین ہے۔کیونکہ خلیفہ راشد جو ایک وقت میں ایک ہی ہوتا ہے ، منہاج نبوت پر فائز ہو کر دراصل آسمان سے ہی اترتا ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سرے سے خلافت راشدہ کا قیام بھی مکن نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدّث اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اترتے رہتے ہیں جب تک کفر وضلالت کی ظلمت دور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح نمودار ہو جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرِ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَع الفجر (سورة القدر : ۲،۵) سوملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اتر نا اسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن