خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 345
۱۳۴۱ وجہ سے کہی ہے۔میں نے جماعت کو کچھ دیا ہے، یا نہیں۔پچھلے دنوں کسی شخص نے میرے متعلق جھوٹ بولا کہ میں جماعت کا چندہ کھا گیا ہوں تو میں نے اپنے چندہ کا حساب نکلوایا تو معلوم ہوا کہ میں صرف تحریک جدید کو پچھلے ۱۸ سالوں میں دولاکھ سے زائد روپیہ دے چکا ہوں۔پس جب میں تمہاری مالی حالت کی طرف توجہ دلاتا ہوں تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں صرف تمہارے فائدہ کے لئے کچھ کہتا ہوں۔“ خطبات محمود نمبر اخطبه نمبر ۴۲ صفحه ۴۵۵) خلفائے راشدین کے مذکورہ بالا نمونے اور ان کی طرف سے وقتاً فوقتاً کی جانے والی وضاحتیں اس خیال اور وسوسہ کو کلیۂ غلط اور جھوٹا ثابت کرتی ہیں کہ جماعتی فنڈ ز کسی فرد کو ذاتی استعمال کے لئے نہیں دیئے جانے چاہئیں، چاہے وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔یہ امر اخلاقی اور قانونی ہر دو پہلوؤں سے محلِ نظر ہے۔“ ظاہر ہے کہ ایسا اظہار بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود طعنہ زن کے فسق و فجور کی نقاب کشائی کرتا ہے۔اس استفسار کا یہ پہلو بھی لا یعنی ہے کہ دین و ایمان کے تقاضوں کے تحت اپنے محبوب آقا ومطاع کے حضور اموال پیش کرنا قانونی لحاظ سے محلِ نظر ہے۔جس شخص کے ذہن میں ایسا خیال آتا ہے، ہم اسے یقین دلاتے ہیں کہ خلیفہ وقت کے حضور جو بھی اموال پیش کئے جاتے ہیں وہ ہر ملک میں اس کے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔اس سلسلہ میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوتا۔لہذا اسے اس بارہ میں متفکر ہونے کی ضرورت نہیں۔