خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 23 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 23

۲۳ پھر وہ خلافت راشدہ کی ضرورت و اہمیت کو بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: " کتاب وسنت نے جماعتی زندگی کے تین رکن بتلائے ہیں۔ا: تمام لوگ کسی ایک صاحب علم و عمل مسلمان پر جمع ہو جائیں اور وہ ان کا امام ہو۔۲: جو کچھ وہ تعلیم دے، ایمان و صداقت کے ساتھ قبول کریں۔۳: قرآن وسنت کے ماتحت اس کے جو کچھ احکام ہوں ان کی بلا چون و چرا تعمیل و اطاعت کریں سب کی زبانیں گونگی ہوں، صرف اس کی زبان ہو۔سب کے دماغ بیکار ہو جائیں ،صرف اس کا دماغ کار فرما ہو۔لوگوں کے پاس نہ زبان ہو نہ دماغ ،صرف دل ہوں جو قبول کریں،صرف ہاتھ پاؤں ہوں جو عمل کریں۔اگر ایسا نہیں ہے تو ایک بھیڑ ہے، ایک انبوہ ہے، جانوروں کا ایک جنگل ہے، کنکر پتھر کا ایک ڈھیر ہے ،مگر نہ تو جماعت ہے،نہ امت و قوم نہ اجتماع۔اینٹیں ہیں مگر دیوار نہیں، کنکر ہیں مگر پہاڑ نہیں ، قطرے ہیں مگر دریا نہیں۔کڑیاں ہیں جو ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاسکتی ہیں مگر ز نجیر نہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو گرفتار کر سکتی ہے۔“ مسئلہ خلافت صفحه ۲۴۳ مطبوعہ خیابان عرفان کچہری روڈ لاہور ) مولانا آزاد باتیں تو بہت کھری اور سچی کر گئے ہیں مگر ان کی آنکھ اس امام اور خلیفہ اللہ کو شناخت کرنے سے قاصر رہی جو اس کے قریب، ارد گرد اور آس پاس تھا۔ایسے لوگوں کی زبانیں سچی باتیں تو کہہ دیتی ہیں مگر ان کی اپنی کسی قلبی تاریکی کے باعث ان کے دل ہدایت کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔در اصل بنیادی طور پر یہ وہی باتیں ہیں جو اُس دور کے خلیفہ اللہ نے کہی تھیں کہ ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت