خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 318 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 318

۳۱۴ پابندی، ارشادات کی اطاعت اور فیصلوں کی تعمیل ایک شرعی حکم اور فریضہ ہے اور ان کے ساتھ ایک پیروکار کی جزا سزا کا معاملہ بندھا ہوا ہے۔آنحضرت ام فرماتے ہیں: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ اَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَ مَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي 66 مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية ) کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی ، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔اور جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی ، اس نے میری نافرمانی کی۔آنحضرت لم نے اپنے اس ارشاد میں اطاعت کے نظام کو اس طرح یکجا کیا ہے کہ امیر سے لے کر اپنے وجود باجود تک اطاعت کو خدا تعالیٰ کی اطاعت سے باندھ دیا ہے۔اگر امیر کی نافرمانی ، رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی قرار پاتی ہے تو اس مذکورہ بالا حدیث رسول اور قرآن کریم کے مطابق آپ کی نافرمانی موجب معصیت الہی ہے۔لہذا اس سے یہ تاثر قائم ہوسکتا ہے کہ ایک امیر خلیفہ یا رسول کا حکم یا فیصلہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔اور اس کی وجہ سے رسول یا خلیفہ اور دیگر واجب الا طاعت ہستیوں کی عظمت خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے ساتھ خلط ملط ہو جانے کے امکان کو دور کیا گیا ہے۔یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ گو اطاعت کے لحاظ سے رسول اور خلیفہ کے حکم کی نافرمانی کرنا، ان کے فیصلہ کو بغیر تیل کے چھوڑ نا معصیت الہی کا موجب ہوگا مگر ان کا حکم کلام الہی یا حکم الہی نہیں ہے۔کلام الہی کی ایک الگ عظمت ہے اور بالاشان ہے۔پس اس لفظ ” معروف“ کے ذریعہ احکام الہی اور احکام رسول وخلیفہ میں ایک امتیاز قائم کیا گیا ہے نیز بیعت کنندہ کو شرکیہ رجحان کے امکان سے بھی محفوظ کیا گیا ہے۔نبی وخلیفہ کے احکام اور فیصلوں کے ساتھ معروف کا لفظ لگا کر بیعت کنندہ کو یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ گو نبی یا خلیفہ کی بیعت کرنے کا معنی پک جاتا ہے اور ان کی اطاعت کا نام بھی سجدہ ہے مگر نبی اور خلیفہ خدائی کے مقام پر نہیں ہیں گو اس کی صفات کے مظہر ہیں اور اس دنیا میں اس کے جانشین ہیں۔ان کے احکام یا فیصلے خدا تعالیٰ کے