خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 19
۱۹ خلق ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے پوتے حضرت سید محمد اسمعیل شہید کی معرکہ آراء کتاب ” منصب امامت خلافت کی اہمیت و عظمت کے بیان میں ایک پُر عرفان شاہکار کتاب ہے۔اس میں سے چند اقتباسات ہدیہ قارئین کئے جارہے ہیں۔ان تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آپ کی جماعت میں جس عظیم خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام ہونا تھا، اس کے مقام و مرتبہ اور عظمت کے بارہ میں حضرت شاہ صاحب نے مسلمانوں کو ایک زبر دست عرفان عطا کیا ہے۔آپ نے اس منصب کا عرفان دینے کے لئے گو مثالیں آنحضرت ﷺ کے خلفائے راشدین کی بھی دی ہیں مگر ان مثالوں کے آئینہ میں اس مقدس اور عظیم منصب اور نعمت الہیہ کو خوب واضح کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: امامت تامہ کو خلافت راشدہ، خلافت علی منہاج النبوۃ اور خلافتِ رحمت بھی کہتے ہیں۔واضح ہو کہ جب امامت کا چراغ شیشۂ خلافت میں جلوہ گر ہوا تو نعمت ربانی بنی نوع انسان کی پرورش کے لئے کمال تک پہنچی اور کمال روحانی اسی رحمت رحمانی کے کمال کے ساتھ نور علی نور آفتاب کی مانند چمکا۔منصب امامت از حضرت سید محمد اسمعیل شہید ( مترجم ) صفحه ۸۲ ۸۳ مطبوعہ ۱۹۴۹ء نا شرحکیم محمدحسین مومن پورہ لاہور ) خلیفہ راشد اور دیگر ائمہ وصلحائے امت کے مابین فرق کیا ہے؟ اس کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: خلیفہ راشد رسول کے فرزند ولیعہد کی بجائے اور دوسرے ائمہ دین بمنزلہ دوسرے بیٹوں کے۔پس جیسا کہ تمام فرزندوں کی سعادتمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جس طرح وہ مراتب پاسداری و خدمت گزاری اپنے باپ کے حق میں ادا لاتے ہیں، وہ بتمامہ اپنے باپ کے جانشین بھائی سے بجا لائیں۔اور اسے اپنے باپ کی جگہ شمار کریں اور اس کے ساتھ مشارکت کا دم