خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 13
۱۳ خلافت کی تعریف: 66 خلیفہ یا خلافت لفظ ”خلف “ سے مشتق ہے جو چسپاں ہونے کے لحاظ سے وسیع المفہوم ہے۔اس کے لغوی معنی نیابت، قائمقامی اور جانشینی کے ہیں۔جو کسی کا جانشین ہوتا ہے وہ اس کا خلیفہ کہلاتا ہے۔اسلامی اصطلاح میں نبی کا جانشین خلیفہ کہلاتا ہے اور مبہوت کی قائمقامی خلافت کہلاتی ہے۔اسلام میں نبوت کی جانشینی میں قائم ہونے والی خلافت کے لئے ” خلافت راشدہ“، ” خلافت علی منہاج النبوۃ اور خلافت حقہ کی اصطلاحات رائج ہیں۔جب یہ اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں تو ان سے مراد خالصہ وہی خلافت ہوتی ہے جو نبوت کی جانشینی میں اس کے انوار، کمالات اور برکات کی مظہر ہوتی ہے۔وہ نبوت کی ذمہ داریوں، اس کے فرائض اور کاموں کو آگے چلانے والی ہوتی ہے۔خلیفہ کے معنے بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ نیز فرمایا: سے وہی ہوسکتا ہے جوظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۳) یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے، یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۵) خلافت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت علیہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” خلیفہ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے کا نائب ہوتا ہے۔پس وعدہ کی ادنی حد یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد اس کے نائب ہوں۔اور