خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 218
۲۱۵ (۴۱) جماعتی تعمیرات کی نگرانی کے لئے احمدی انجنیئر وں کو تحریک (۴۲) تمام مجالس کے اجتماعات میں نمائندگی کی تحریک ۴۳) فضل عمر فاؤنڈیشن، انجمنوں اور ذیلی تنظیموں کوغیر ملکی مہمانوں کے لئے گیسٹ ہاؤسز بنانے کی تحریک ۴۴) جماعت کے افراد کو قوی اور امین بننے کی تحریک ۴۵) متلاشیان حق کو وفود کی شکل میں مرکز میں لانے کی تحریک (۴۶) ذیلی تنظیموں کے ضلعی اور علاقائی اجتماعات منعقد کرنے کی تحریک ۴۷) جنگی قیدیوں اور افغان مہاجرین کے لئے گرم کپڑے اور رضائیاں مفت سپلائی کرنے کی سکیم (۴۸) مشاورت میں کم عمر نمائندوں کی شمولیت کی تحریک علاوہ ازیں اور بے شمار ہدایات و نصائح ہیں جو خلیفہ وقت کی زبان سے جاری ہونے کی وجہ سے تحریک کے روپ میں ظاہر ہوتی ہیں اور جماعت کے عمل میں ڈھل کر افراد جماعت کی بہبود اور جماعت کی عظمت و ترقی کا موجب بنتی رہی ہیں۔۱۹۷۴ء کا دور پُر آشوب دورِ خلافت ثالثہ میں ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کڑی آزمائشوں کے ایک اور دور میں داخل ہوئی۔جب اپنوں ہی کی آنکھیں نفرت کے شعلے، ذہن تعصب کی آگ اور ہاتھ ظلم کی برچھی بن گئے تھے تو کشتی احمد کا ملاح اللہ پر توکل کرتا ہوا اپنے دن رات ایک کر کے خوف و دہشت کی چٹانوں سے اسے بچاتا ہوا ظلم کے شعلوں سے کتراتا ہوا تاریخ کے اوراق میں تحمل ، عفو اور درگزر کے ایک شاندار باب کا اضافہ کر کے کم حوصلگی کو بلند حوصلگی میں، مرجھائے پیکروں کو مسکراہٹ سے دسکتے چہروں میں بدل کر خدائی نصرت کے ساتھ خوف کو امن میں بدلنے کا موجب ہوا۔اس دوران پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنفس نفیس تشریف لے جا کر ۵۲ گھنٹے تک جماعتِ احمدیہ کے موقف کی وضاحت فرمائی۔