خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 199 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 199

۱۹۶ کے لئے ۱۲ ؍ ربیع الاول کے دن کے بجائے دوسرے دنوں کو زیادہ مناسب قرار دیا۔چنانچہ ۱۹۲۸ء میں آپ نے یکم محرم ۱۳۴۷ھ بمطابق ۲۰ جون کو پہلا یوم سیرت منانے کا اعلان کیا جسے شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کی بآسانی شمولیت کے پیش نظر ۱۷ جون میں تبدیل کر دیا۔(الفضل ۴ مئی ۱۹۲۸ء) حضور نے اس پروگرام کے شایانِ شان جماعت احمد یہ اور دوسرے مسلمانوں کو تیاری کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی اور اس بارے میں کئی اہم مشورے دیئے مثلاً اصل جلسوں کی اہمیت بتانے کے لئے مختلف موقعوں پر مختلف محلوں میں جلسے کریں۔جلسہ کی صدارت کے لئے بارسوخ اور سر بر آوردہ لوگ منتخب کئے جائیں۔جلسہ گاہ کا مناسب انتظام ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پہلا جلسہ سیرۃ النبی ملک کے طول وعرض میں نہایت شاندار طریقہ سے منایا گیا اور نہایت تزک واحتشام سے مختلف جگہوں پر یہ جلسے منعقد کئے گئے اور ایک ہی سٹیج پر ہر فرقہ کے مسلمانوں نے سیرت رسول پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تقریریں کیں۔مسلمانوں کے علاوہ ہندو ،سکھ ، عیسائی اور جینی اصحاب نے بھی آنحضرت ام کی پاکیزہ سیرت، بیش بہا قربانیوں اور عدیم النظیر احسانات کا ذکر کیا اور نہ صرف ان جلسوں میں بخوشی شامل ہوئے بلکہ کئی مقامات پر انہوں نے ان کے انعقاد میں بڑی مدد بھی دی۔جلسہ گاہ کے لئے اپنے مکانات دیے، ضروری سامان مہیا کیا، سامعین کی شربت وغیرہ سے تواضع کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان جلسوں میں شامل ہو کر تقاریر کیں۔مجالس سیرت النبی کی کامیابی ایسے شاندار رنگ میں ہوئی کہ بڑے بڑے لیڈ ر دنگ رہ گئے اور اخباروں نے اس پر بڑے بڑے عمدہ تبصرے شائع کئے اور اس کی غیر معمولی کامیابی پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو مبارکباد دی۔مثلاً اخبار ” مشرق، گورکھپور ۲۱ / جون ۱۹۲۸ء۔کلکتہ کا ایک بنگالی اخبار ” سلطان ۲۱ / جون ۱۹۲۸ ء - اخبار کشمیری لاہور ۲۸ / جون ۱۹۲۸ء نے ” ۱۷ رجون کی شام“ کے عنوان سے تبصرہ شائع کیا۔اخبار پیشوا دہلی ۸ / جولائی ۱۹۲۸ ء نے ۷ ارجون کے جلسوں کی کامیابی پر خوشی اور اس کے مخالفین پر افسوس کا اظہار کیا۔اخبار ”ہمت“ لکھنو ۱۳ مئی ۱۹۲۹ء۔اخبار