خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 198 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 198

۱۹۵ برطانیہ گئے ہوئے تھے۔جلسہ ہائے سیرت النبی کا آغاز ۱۹۲۷ء کے آخر میں اس اہم تحریک کی تجویز اللہ تعالیٰ نے القاء فرمائی جب کہ ہندوؤں کی طرف سے کتاب ”رنگیلا رسول اور رسالہ ” ورتمان میں آنحضرت ام کی شانِ مبارک میں انتہائی گستاخیاں کی گئیں اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی اس وقت یہ محسوس کیا گیا کہ جب تک نبی کریم کی مقدس زندگی کے حالات اور آپ کے عالمگیر احسانات کے تذکروں سے ملک کا گوشہ گوشہ گونج نہیں اُٹھے گا اس وقت تک مخالفین اسلام کی قلعہ محمدی پر موجودہ یورش بدستور جاری رہے گی اور دراصل یہی خیال تھا جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سید نا صلح موعودؓ نے ”سیرت النبی کے جلسوں کی تجویز فرمائی۔اس اہم قومی وملی مقصد کی تکمیل کے لئے آپ نے وسیع پروگرام تجویز فرمایا جس کے اہم پہلومندرجہ ذیل تھے۔اول : ہر سال آنحضرت ﷺ کی مقدس سوانح میں سے بعض اہم پہلوؤں کو منتخب کر کے ان پر خاص طور سے روشنی ڈالی جائے۔دوم : ان مضامین پر لیکچر دینے کے لئے آپ نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء پر ایک ہزار ایسے فدائیوں کا مطالبہ کیا جولیکچردیں گے۔سوم: سیرۃ النبی پر تقریر کرنے کے لئے آپ نے مسلمان ہونے کی شرط ہٹا دی بلکہ فرمایا کہ غیر مسلم بھی تقاریر کریں کیونکہ آنحضرت یم کے احسانات ساری دُنیا پر ہیں۔چهارم: غیر مسلموں کے لئے کہا گیا کہ ان میں سے جو اوّل ، دوم اور سوم آئیں گے انہیں علی الترتیب سو، پچاس اور چھپیں روپیہ کے نقد انعامات دیئے جائیں گے۔پنجم : حضور کے سامنے چونکہ میلادالنبی کے معروف رسمی ، بے اثر اور محدود جلسوں کی مخصوص اغراض کی بجائے سیرت النبی کے خالص علمی اور ہمہ گیر جلسوں کا تصور تھا اس لئے آپ نے ان کے انعقاد