خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 160
۱۵۸ خلافت خورشید جو بجھا تو طلوع قمر ہوا پھر ہر نگر ہوا روشن خدا کے نور سے سے پھر تکمیل فرض کر کے چلا خُلد کو جو ایک تو دوسرا ستارا نوید سحر ہوا احمد تیری دعا سے ہم خوش نصیب ہیں جب غم میلا کوئی تو کوئی چارہ گر ہوا نہ مشکلوں کا ڈر نہ اندھیروں کا خوف ہے نور خدا یہ جب سے میرا ہمسفر ہوا آساں ہیں راستے اور منزل ہے زیر پا جب راہنما خلیفہ راشد خضر ہوا