خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 4
اعمال کی اصلاح میں حصہ لے سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نظر میں خلیفہ وقت کے نائب قرار پاسکتے ہیں۔(تعلیم العقائد والاعمال پر خطبات صفحه ۵۶ از حضرت المصلح الموعود مرتب شیخ یعقوب علی عرفانی دیگر مومنوں کی طرح خلافت کے ساتھ فطرتی محبت ،عقیدت اور فدائیت کا رشتہ تو تھا ہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مندرجہ بالا ارشاد کی تعمیل میں اپنے حصہ کے فرض کی ادائیگی کے طور پر خلافت کی برکات کے بارہ میں چند حقیقتیں جمع کرنے کا ارادہ کیا مگر مشکل یہ در پیش آئی کہ ابتداء کہاں سے کروں۔کیا ایمان کی اس حقیقت کے اظہار سے شروع کروں کہ جس کی بناء پر خدا تعالیٰ نے مومنین سے خلافت کا وعدہ کیا ہے یا اعمال صالحہ کی ان بنیادوں سے جو خلافت کے قیام کی وجہ بنتے ہیں۔کیا مضمون کے دروازے تائید الہی کے ان جلووں سے کھولوں جو ہر آن خلافت کے شاملِ حال رہتے ہیں یا ان ناکامیوں اور نامرادیوں کی کسی داستان سے وا کروں جو اس کی مخالفت کے باعث تاریخ اسلام کے درخشاں باب کو بدنما کر گئیں۔کیا اس محبت اور عقیدت سے شروع کروں جو اس کی روشنی میں جلا پا کر مقدس ہو جاتی ہے یا اس اطاعت و فرمانبرداری اور فدائیت کے ان نمونوں سے ابتداء کروں جو خلافت سے وابستگی کی شرط اول ہے۔الغرض کون سا پھول چنوں گلشن سے ایک سے ایک سوا لگتا ہے سوچوں کی اس کشمکش میں ذہن کے تار اس عظیم الشان حقیقت افروز واقعہ میں الجھ گئے جو امت میں خلافتِ راشدہ کے ظہور کے ساتھ ہی رونما ہوا۔جس نے خلافت کی حقیقت، اہمیت اور برکتوں کو اتنی وضاحت بخشی کہ اس کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ رہی۔اس ایک واقعہ نے عظمت خلافت کو اس قدر روشن کر دیا کہ ماحول سے شرک کی گھٹائیں دور ہو گئیں اور دین میں بظاہر کمزوری اور خوف کے تمام بادل چھٹ گئے۔