خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 155
۱۵۳ ہے، آپ کے وقت میں پوری نہ ہو سکی۔بلکہ آپ کو اپنے لوگوں کی طرف سے تکلیف پہنچی۔حال یہ تھا کہ ہر روز کسی نہ کسی گروہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی نیا جھگڑا کھڑا کر دیا جاتا تھا۔چنانچہ فتنہائے زمانہ بڑی کثرت سے پیدا ہوئے اور طائر امن پرواز کر گیا۔مفاسد بپھر گئے اور فتنوں نے خوب جوش مارا حتی کہ نوبت یہانتک پہنچ گئی کہ سید المظلومین حضرت امام حسین شہید کر دئیے گئے۔نیز فرمایا: كَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَقِيًّا نَقِيًّا مِنَ الَّذِيْنَ هُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إلَى الرَّحْمَانِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَكَانَ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ الْمُقَرَّبِيْنَ وَمَعَ ذَلِكَ كَانَ مِنَ السَّابِقِيْنَ فِي ارْتَضَاعِ كَأْسِ الْفُرْقَانِ وَ أُعْطِيَ لَهُ فَهُمُ عَجِيْبُ لِاِدْرَاكِ دَقَائِقِ الْقُرْآن سر الخلافہ روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۵۸) کہ حضرت علی متقی ، پاکباز تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمن کو بیحد پیارے ہوتے ہیں۔اور وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے تھے۔اس کے ساتھ وہ فرقان مجید کے دودھ کے جام چڑھانے والوں میں پیش پیش تھے۔اور انہیں قرآن کریم کے دقائق کے ادراک کا عجیب فہم عطا کیا گیا تھا۔رضی اللہ عنہ یہاں ضمنی طور پر یہ بیان کرنا غیر ضروری نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اقتباس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے جن بنیادوں پر وعدہ خلافت کیا ہے ان میں سے جزوی طور پر مومنوں میں بعض بنیادوں کے کمزور ہو جانے یا کھوکھلی ہو جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بعض وعدوں کو بھی موقوف کر دیتا ہے۔علی ھذا القیاس اس طرح رفتہ رفتہ خلافت کا وعدہ مجموعی طور پر ہی اٹھا لیا جاتا ہے۔