خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 153 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 153

۱۵۱ حضرت علی اور آپ کا دور خلافت حضرت علی کو حضرت عثمان کی شہادت سے اگلے روز خلیفہ منتخب کیا گیا اور تقریباً تمام صحابہ نے برضا ورغبت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔حضرت علی کا دور خلافت پانچ سالوں پر محیط ہے۔یہ سارا عرصہ عمومی طور پر خانہ جنگیوں اور ہمہ جہتی شورشوں کی نذر ہو گیا۔اس وجہ سے اسلامی سلطنت کی جغرافیائی حدود میں کوئی وسعت نہ ہوئی اور فتوحات کا سلسلہ رک گیا۔اس بدامنی کے حالات اور شورشوں کے قلع قمع کے لئے مہمات کے باوجود آپ کا دور خلافت عظیم الشان کاموں سے معمور ہے۔مثلاً حضرت عمر کے قائم کردہ نظامِ حکومت اور شریعت کو پوری طرح قائم رکھا اور نافذ کیا۔اس میں عمال کی نگرانی کا نظام، محاصل کے شعبہ میں اصلاحات کا قیام، خراج کی آمدنی کا احتساب،مضبوط بنیادوں پر عدل و مساوات کا قیام۔بازار کی نگرانی کے نظام کا اجراء۔جنگلات سے مالی فوائد حاصل کرنا ، رعایا سے شفقت اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے ہر نوع کا انتظام کرنا، ذمیوں سے نرم سلوک، فوجی چوکیاں قائم کرنا، قلعوں کی تعمیر اور بغاوتوں کو کچلنا، پلوں کی تعمیر وغیرہ وغیرہ قابلِ ذکر امور ہیں۔خدمت قرآن : امام جلال الدین سیوطی نے تحریر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں آپ قرآن کریم کی تدوین ترتیب میں مصروف رہے۔وہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے آپ سے پوچھا: کیا آپ کو میری خلافت نا پسند ہے؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے۔مجھے آپ کی خلافت و امارت سے کسی قسم کی ناپسندیدگی یا انکار نہیں ہے لیکن میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک قرآن کریم کو ترتیب کے ساتھ جمع نہ کرلوں، اس وقت تک پنجوقتہ نماز کے سوا کسی دوسرے کام کومستعدی سے نہ کروں۔