خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 149 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 149

۱۴۷ حضرت عمر اور آپ کا دور خلافت حضرت ابو بکر نے الہی منشاء اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اپنی زندگی کے آخری ایام میں بعض صائب الرائے صحابہ کے مشورہ سے حضرت عمر کو خلیفتہ الرسول نا مزد کر دیا تھا۔یعنی آپ " عملاً ( جمادی الاول ۱۳ ھ کے اواخر میں ) حضرت ابو بکر کی وفات کے دن سے خلافت کے فرائض کی ادائیگی میں مصروف عمل ہوئے۔آپ کا عہدِ خلافت ،سنت و تعلیماتِ رسالت کے قیام کے عملی نمونوں سے معمور ہے مثلاً تعلیمات اسلامیہ کے مطابق ملکی نظم ونسق ، تعزیر حدود کے قیام، مالی نظام کی تشکیل اور بیت المال کا مضبوط قوانین اور نگرانی کے ساتھ قیام ، بدعات کا سد باب، تدوین حدیث کی ابتداء، غیر مسلموں کے حقوق کی نگہداشت کا نظام عوام کی فلاح و بہبود، غرباء اور مساکین کے حقوق کی نگہداشت کا نظام، رعایا کی خبر گیری، زرعی اصلاحات کا نفاذ، اشاعت اسلام کی مہمات، فوجی نظام کی ترتیب، فوجیوں کی تربیت، نظم و ضبط ، ٹریننگ اور مشقوں کے نظام کا قیام ، فوج کو آلات حرب کی فراہمی فوجی چھانیوں کا قیام،مساجد کی تعمیر وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔نظام خلافت امت میں خلافتِ راشدہ کا قیام اور آغاز تو حضرت ابوبکر کے ذریعہ ہو چکا تھا مگر اپنے تفصیلی خد وخال کے ساتھ اس کا باقاعدہ نظام آپ کے عہد خلافت میں قائم ہوا۔اس میں جمہوری طرز پر آراء اور حق نمائندگی کا بھی قیام عمل میں آیا۔اس نظام کا ایک بڑا حصہ مجلس شورای کی تشکیل کی صورت میں تھا جس کا باقاعدہ نظام آپ کے ذریعہ جاری ہوا تبلیغ واشاعت کے کام کی توسیع ہوئی۔اسی طرح آپ نے عمال ، امراء، گورنروں اور فوجی کمانڈروں وغیرہ کی نگرانی اور احتساب وغیرہ امور بھی باقاعدہ جاری فرمائے۔اسی طرح ملکی نظم ونسق اور مفتوحہ علاقوں کا انتظام و