خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 142
۱۴۰ شخص کے ذریعہ کی ہے جو تم میں سے سب سے بہتر ہے۔وہ رسول اللہ علیم کا ساتھی ہے جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ دونوں میں سے دوسرا ہے پس اٹھو اور اس کی بیعت کرو۔“ ابن ہشام امر سقیفہ بنی ساعدہ، خطبة عمر بعد البيعة۔۔) حضرت عمرؓ کے اس خطاب کے بعد مسجد میں حاضر سب لوگوں نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔اس بیعت کے موقع پر حضرت ابوبکر نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! تمہاری باگ ڈور مجھے سونپی گئی ہے لیکن میں تم جیسا ہی ایک شخص ہوں اگر میں نیک کام کروں تو تم میری مددکر و اور اگر کوئی بُرا کام کروں تو مجھے درست کرو۔سچائی ایک امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔تم میں سے کمزور شخص میرے نزدیک قوی ہے کیونکہ اس کا حق دلانے کے لئے میں اس کے ساتھ ہوں گا۔پھر تم میں سے قوی شخص ضعیف ہوگا کیونکہ میں اس سے قابل ادا حق دلواؤں گا ، انشاء اللہ۔جو قوم جہاد ترک کر دیتی ہے ، اللہ تعالیٰ اسے ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔جس قوم میں فحاشی عام ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس میں مصیبتیں اور آزمائشیں عام کر دیتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہوں تو تم میری اطاعت کرو۔ہاں اگر میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا نافرمان ہوتا ہوں تو پھر تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔“ اس مختصر خطاب کے ساتھ ہی آپ نے لوگوں کو نماز کے لئے تیار ہونے کا ارشاد فرمایا۔(ابن ہشام امر سقیفہ بنی ساعدہ، خطبۃ ابی بکر بعد البيعة۔۔) خدا تعالیٰ نے ۲۶ مئی کو حضرت ابو بکر کو خلیفۃ الرسول کے منصب عالی پر فائز فرمایا اور آپ نے آنحضرت دم کے جسد اطہر کی تدفین کے بعد ۲۷ رمئی ۱۳۲ ء کو جماعت مومنین سے با قاعدہ