خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 141 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 141

۱۳۹ بہت آگے تھے۔اسی طرح اور کئی خوبیوں اور خصائل کے اعتبار سے یہ لوگ اسلام میں امتیازی شان کے حامل تھے۔پس آنحضرت ﷺ کے فوراًبعد اسلام کے نظام او انصرام کے لئے مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا الہی حکمتوں میں داخل تھا۔جس کا اظہار آنحضرت لم نے پیشگوئی کی صورت میں کیا۔آپ کی اس پیشگوئی میں مضمر جملہ حکمتوں سے حضرت ابوبکر بخوبی واقف تھے۔اس لئے آپ نے اسلام کی بقا اور آنحضرت ﷺ کے بعد اس کے استحکام اور ترقی کے لئے ایک ٹھوس حقیقت اور ابدی سچائی پر مبنی خطاب فرمایا۔یہ الگ بات ہے کہ آپ خود بھی مہاجرین میں سے تھے۔مگر آپ کا یہ خطاب اپنے لئے کسی جاہ و حشم کی طلب پر مبنی نہیں تھا۔مسجد نبوی میں حضرت ابوبکر کی عام بیعت ۲۴ ربیع الاول الاھے (۲۷ مئی ۱۶۳۲ء) سقیفہ میں حضرت ابوبکر صدیق کی بیعت سے اگلے روز جب سب لوگ مسجد نبوی میں جمع تھے۔حضرت اسامہ والا لشکر بھی جرف سے مدینہ واپس پہنچ چکا تھا۔اس میں شامل صحابہ بھی مسجد میں موجود تھے۔حضرت ابوبکر منبر پر تشریف فرما تھے۔حضرت عمر آپ کی موجودگی میں لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپ نے گزشتہ کل رونما ہونے والے واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو ! کل میں نے تم سے ایسی بات کہی تھی جو نہ کتاب اللہ میں تھی اور نہ ہی میں نے رسول اللہ ہم سے سنی تھی۔میں رسول اللہ یم سے اپنی محبت کے جوش میں سمجھتا تھا کہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور بنفس نفیس ہمارے کاموں کی نگرانی فرمائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہ کتاب ہمیشہ کے لئے باقی رکھی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ سلم کی رہنمائی فرمائی تھی۔پس اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو تو اللہ تعالیٰ تمہاری بھی اسی طرح رہنمائی فرمائے گا جس طرح اس نے رسول اللہ علم کی رہنمائی فرمائی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اب تمہاری شیرازہ بندی اس