خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 136
۱۳۴ ہی ہو جو ان اوصاف کے مالک ہو۔لیکن عرب لوگ قبیلہ قریش کے حسب و نسب کے اعلیٰ ہونے کی وجہ سے کسی اور کی سرداری قبول نہیں کریں گے۔“ چنانچہ حضرت عمررؓ اور حضرت ابو عبیدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو۔پس ان کے نام پیش کرنے کی وجہ سے اگر میری گردن بھی اڑا دی جائے تو مجھے کچھ پرواہ نہیں۔اگر میرا یہ کام میرا گناہ بھی شمار ہو تو میرے لئے یہ زیادہ پسندیدہ ہوگا کیونکہ میں ایسی قوم کے لئے امیر تجویز کر رہا ہوں جس میں خود ابو بکر ہے۔اے میرے خدا! اگر اس وقت مجھے اس بات کا خیال نہ آتا تو موت کے وقت میرے نفس میں ایک کھٹکا رہتا۔“ حضرت ابو بکر کے اس خطاب کے بعد حضرت حباب بن منذرانصاری نے پھر تقریر کی اور قریش کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار پھر انصار کی اہمیت اور ان کے تفوق کا ذکر کیا اور زور دیا کہ : " مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، پس ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے۔حضرت حباب بن منذر کی تقریر سے ایک بار پھر صورتحال بدلنے لگی تو ایک روایت کے مطابق حضرت عمران کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ رسول اللہ علیم نے حضرت ابوبکرکونماز پڑھانے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا: ” بے شک۔‘“ آپ نے کہا کہ تم میں سے پھر کون ہے جو یہ چاہتا ہے کہ حضرت ابو بکر سے آگے بڑھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سے آگے بڑھیں۔(ابن اثیر حدیث السقيفة وخلافته ابی بکر وارضاه و ابن سعد ذکر امر رسول الله أبا بكر أن يصلى بالناس في مرضه والسيرة الحلبية ) چنانچہ حضرت عمر فوراً حضرت ابو بکر کی طرف یہ پکارتے ہوئے لیکے کہ ابسُطُ يَدَكَ يَا ابابکر “اے ابوبکر ! آپ اپنا ہاتھ بڑھا ئیں۔اور حضرت عمر نے حضرت ابو بکر ا ہاتھ تھامتے ہی آپ کی بیعت کر لی اور عرض کی : ” اے ابوبکر ! آپ کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ آپ نماز