خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 112 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 112

111 وَفِي الصَّلوةِ بَعْضُنَا قَدْ أُمَّهُ حج الكرامه صفحه ۱۳۸ از نواب صدیق حسن خان) کہ آخر میں عیسیٰ نبی اللہ نشانات و معجزات کے ساتھ آئیں گے اور اس اُمت میں دین کی تجدید کریں گے۔اور ہم میں سے کوئی نماز میں اس کی امامت بھی کرے گا۔پھر آگے جا کر فرمایا: وَ بَعْدَهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُجَدَّدٍ“ کہ اس کے بعد کوئی مجد دباقی نہیں رہے گا۔گویا وہی آخری مجد دہوگا۔امام جلال الدین سیوطی نے اپنے اس بیان میں یہ حقیقت افروز پیشگوئی فرمائی ہے کہ آنحضرت ام کے فرمان کے مطابق امام مہدی ومسیح موعود کے بعد چونکہ خلافت راشدہ ،خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو جائے گی اس لئے اس کی موجودگی میں دیگر مجد دوں کی آمد اور تجدید دین کا وہ تصور نہیں رہے گا جو امام مہدی کے ظہور سے قبل خلافتِ راشدہ کے بعد اور اس کی عدم موجودگی میں تھا کیونکه خلافت راشدہ تجدید دین کی اعلیٰ قسم ہے۔پس مسیح موعود کے بعد آپ کے خلفاء آپ کی خلافت اور جانشینی میں آپ کے ظلت کے طور پر اصلاح امت اور تجدید دین کا کام کریں گے۔جیسا کہ امام الزمان حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں : اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو۔۔۔۔یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجددِ صدی بھی ہے اور مسجد والف آخر بھی۔لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۸) چونکہ حضرت مسیح موعود مجد دصدی بھی ہیں اور مجد والف آخر بھی نیز آپ کی خلافت کا سلسلہ قیامت تک ممتد ہے۔جیسا کہ رسالہ الوصیت اور کتاب شہادت القرآن اس پر گواہ ہے کہ وو وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا“۔اس لئے آئندہ خلافت را شده، خلافت علی منہاج النبوة جو حدیث مجدد کی اعلیٰ ترین تعبیر ہے، خدا تعالیٰ قیامت تک اسی کے ذریعہ اعلی پیمانہ پر تجدید و تبلیغ دین کے سامان کرتا چلا جائے گا اور اُمتِ