خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 98
نیز فرمایا: ۹۷ اور فرمایا: ہے کہ چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں ( خطبات نور صفحه ۱۳۱ مطبوعه قادیان ۲۰۰۳ء) ”اگر تم میری بیعت کرنا چاہتے ہو تو سن لو بیعت پک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارہ فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک شخص دوسرے کے لئے اپنی تمام تربیت اور بلند پروازیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔( بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء) آیت استخلاف سے منسلکہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اطاعت خلیفہ کا دوسرا پہلو یہ بیان فرمایا ” وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ“ (النور: ۵۷) ترجمہ: اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔آیت استخلاف کے بعد اس آیت کا مضمون بتاتا ہے کہ نبوت کے بعد اس کی اطاعت خلافت کے ساتھ وابستہ ہے۔اس کے بغیر رسول کی اطاعت کا حق ادا نہیں ہوتا۔نیز بتایا کہ یہی