خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 56 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 56

ارشادات کی روشنی میں خلافت سے تعلق کے نتیجہ میں ہی ایمانی اور عملی ترقی ہوگی۔چاہے کوئی کتنا ہی بڑا عالم یا مد بر یا بظاہر کسی روحانی مقام پر پہنچا ہوا ہو، اگر خلیفہ وقت سے تعلق کا وہ معیار نہیں جو ہونا چاہیے تو جماعتی ترقی یا کسی کی روحانی ترقی میں اس کے اس مقام کا رتی برا براثر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ آپ سبہ کو اس بات کو اس کی گہرائی میں جا کر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ ( حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کامران شورٹی ( پاکستان )2014ء کے نام پیغام۔بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 23 مئی 2014 ء تا 29 مئی 2014، صفحہ 1) اسی طرح ہر احمدی کا یہ کام ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو احمدیت کی طرف منسوب کرتا ہے تو ہمیشہ نظام جماعت سے مضبوط تعلق رکھے اور خلافت احمدیہ سے وفا اور اطاعت کا تعلق رکھنا اس پر فرض ہے کیونکہ یہی بیعت کرتے ہوئے عہد کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ نئے شامل ہونے والے ،خاص طور پر وہ جنہوں نے پورے یقین کے ساتھ علی وجہ البصیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو سمجھ کر قبول کیا وہ اپنے عہد بیعت اور اس کی شرائط پر غور بھی کرتے رہتے ہیں۔بہت سارے لوگ مجھے خطوط بھی لکھتے رہتے ہیں۔۔66 (الفضل انٹر نیشنل 30 اکتوبر 2015 ء تا5 رنومبر 2015ءصفحہ 6) آج ہر احمدی جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر مومنین کی اُس جماعت میں شامل ہو گیا ہوں جس کے ساتھ خلافت کا وعدہ ہے، اُس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہمیشہ اپنی حالتوں میں پاک تبدیلی پیدا کرتے چلے جانے کی کوشش کرتار ہے۔ہر مرد، ہر عورت ، ہر بچہ، ہر جوان یہ سوچ پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت