خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 1 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 1

تعارف اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے مقصد پیدائش کو پورا کرنے کے لئے سلسلہ انبیاء یھم السلام جاری فرمایا۔چنانچہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فرستادے مبعوث ہوئے۔یہ اللہ تعالیٰ کے خلفاء کہلائے۔یہ انسان کو راہ راست پر لانے کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ کے یہ پیامبر ایک لمبی جدوجہد کے بعد ایک الہی جماعت قائم کر کے بشریت کے تقاضا کے ماتحت اس جہانِ فانی کو دوسرے انسانوں کی طرح الوداع کہتے ہوئے اپنے مولائے حقیقی کے پاس چلے گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون!! انبیاء کی وفات پر ان کے متبعین کی جماعت جیتے جی مرجاتی ہے۔ان کی حالت دگر گوں ہو جاتی ہے۔دشمن ان کی اس بظاہر کسمپرسی کی حالت کو دیکھ کر شادیانے بجاتے ہیں۔ایسے میں اللہ تعالیٰ اس جماعت کو بے سہارا نہیں چھوڑتا بلکہ اس کا خیال کرتے ہوئے جانے والے کا کوئی قائمقام اور نائب کھڑا کرتا ہے جو گرتی ہوئی ملت کو سنبھال لیتا ہے۔پھر رفتہ رفتہ یہ جماعت اپنے کاموں اور مشن کو پورا کرنے کی ڈگر پر آجاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت اپنے پیارے نبی کامل صلی ای یتیم کے ساتھ بھی پوری ہوئی۔آپ صلیم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے خلافت راشدہ کو قائم فرمایا۔یہ خلافت راشدہ تئیس سال تک جاری رہی اور آنحضور صالتا پریتم کی پیشگوئی کے مطابق خلافت راشدہ کا یہ سلسلہ آخری زمانہ تک کے لئے منقطع ہو گیا۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیا ایم کی پیشگوئیوں اور وعدہ کے مطابق خلافت راشدہ کا سلسلہ آخری زمانہ میں علی منھاج النبوت دوبارہ قائم ہونا تھا۔اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ جب سورہ جمعہ کی یہ