خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 49
۴۹ انصاف کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں کر رہے۔“ (خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 951) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نمائندگان شوری اور دوسرے کارکنان کو خلیفہ وقت کی اطاعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:۔۔۔۔شوری کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانا نمائندگان شوری اور عہد یداران کا کام ہے۔اور کیونکہ یہ فیصلے خلیفہ وقت سے منظور شدہ ہوتے ہیں اس لئے اگران پر عملدرآمد کروانے کی طرف پوری توجہ نہیں دی جا رہی تو غیر محسوس طریقے پر خلیفہ وقت کے فیصلوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت کے دائرے کے اندر نہیں رہ رہے ہوتے جبکہ جن کے سپر د ذمہ داریاں کی گئی ہیں ان کو تو اطاعت کے اعلیٰ نمونے دکھانے چاہئیں جو کہ دوسروں کے لئے باعث تقلید ہوں نمونہ ہوں۔پس یہ جو خدمت کے موقعے ملے ہیں ان کو صرف عزت اور خوشی کا مقام نہ سمجھیں کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور بڑی عزت کی بات ہے ہمیں خدمت کا موقع مل گیا۔اس کے ساتھ جب تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے تب یہ عزت اور خوشی کی بات ہوگی اور تب یہ عزت اور خوشی کے مقام بنیں گے۔۔۔اللہ سب کو تقویٰ کی راہوں پر چلاتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام وہ لوگ جن کو کسی بھی رنگ میں جماعت کی خدمت کا موقع مل رہا ہے خلیفہ وقت کے دست راست بن کر رہیں۔“ خطبات مسرور جلد چہارم صفحہ 165 تا 166 ، مطبوعہ قادیان 2005ء) نظام خلافت کی کامل اطاعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ افراد جماعت نظام شوری کی افادیت کو سمجھیں تاکہ مجالس شوریٰ میں جماعت کی ترقیات کے جو منصوبے