خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 24
۲۴ وو۔قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے۔اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو دین حق کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنا ئیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں۔اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے ڈھال ہے۔“ مشعل راہ جلد 5 حصہ اول صفحه 4، 5 مطبوع مجلس خدام الاحمدیہ بھارت مئی 2007 ء ) یہ قدرت ثانیہ ہے یا خلافت کا نظام اب انشاء اللہ قائم رہنا ہے اور اس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اگر یہ مطلب لیا جائے کہ وہ تیس سال تھی تو وہ تیس سالہ دور آپ کی پیشگوئی کے مطابق تھا۔اور یہ دائمی دور بھی آپ کی ہی پیشگوئی کے مطابق ہے قیامت کے وقت تک کیا ہونا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لیکن یہ بتادوں کہ یہ دور خلافت آپ کی نسل در نسل در نسل اور بے شمار نسلوں تک چلے جانا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ، بشرطیکہ آپ میں 66 نیکی اور تقویٰ قائم رہے۔“ (خطبہ جمعہ 27 مئی 2005 ء ) ( اخبار بدر خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی نمبر 2008، صفحہ 18،17) اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ خلفاء احمدیت کی قیادت میں جماعت کے خوفوں کو امن