خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 4
خلافت حقہ اسلامیہ 4 خدا تعالیٰ بندوں سے کام لیتا ہے ہمارے اختیار میں ہے چنانچہ عیسائی اس کے لئے انتخاب کرتے ہیں اور اپنے میں سے ایک شخص کو بڑا مذہبی لیڈر بنا لیتے ہیں۔جس کا نام وہ پوپ رکھتے ہیں۔گو پوپ اور پوپ کے متبعین اب خراب ہو گئے ہیں مگر اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ پھر اُن سے مشابہت کیوں دی ؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ جس طرح پہلے لوگوں کو میں نے خلیفہ بنایا تھا۔اسی طرح میں تمہیں خلیفہ بناؤں گا۔یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں خلافت قائم کی گئی تھی اُسی طرح تمہارے اندر بھی اس حصہ میں جو موسوی سلسلہ کے مشابہ ہوگا میں خلافت قائم کروں گا۔یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت براہ راست چلے گی۔پھر جب مسیح موعود آ جائے گا تو جس طرح مسیح ناصرٹی کے سلسلہ میں خلافت چلائی گئی تھی۔اسی طرح تمہارے اندر بھی چلاؤں گا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ موسیٰ کے سلسلہ میں مسیح آیا اور محمدی سلسلہ میں بھی مسیح آیا۔مگر محمدی سلسلہ کا مسیح پہلے مسیح سے افضل ہے۔اس لئے وہ غلطیاں جو انہوں نے کیس وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمدی مسیح کی جماعت نہیں کرے گی۔انہوں نے خدا کو بھلا دیا۔اور خدا تعالیٰ کو بھلا کر ایک کمزور انسان کو خدا کا بیٹا بنا کر پوجنے لگ گئے۔مگر محمدی مسیح نے اپنی جماعت کو شرک کے خلاف بڑی شدت سے تعلیم دی ہے بلکہ خود قرآن کریم نے کہہ دیا ہے کہ اگر تم خلافت حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر شرک کبھی نہ کرنا۔اور میری خالص عبادت کو ہمیشہ قائم رکھنا جیسا کہ يَعْبُدُونَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْئًا میں اشارہ کیا گیا ہے۔پس اگر جماعت اس کو قائم رکھے گی تبھی وہ انعام پائے گی۔اور اس کی صورت یہ بن گئی ہے کہ قرآن کریم نے بھی شرک کے خلاف اتنی تعلیم دی کہ جس کا ہزارواں حصہ بھی انجیل میں نہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی شرک کے خلاف اتنی تعلیم دی ہے جو حضرت مسیح ناصری کی موجودہ تعلیم میں نہیں پائی جاتی۔پھر آپ کے الہاموں میں بھی یہ