خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 3
خلافت حقہ اسلامیہ 3 زمانہ میں خلافت موسویہ یہود یہ دوحصوں میں تقسیم تھی، ایک دور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک تھا۔اور ایک دور حضرت عیسی علیہ السلام سے لیکر آج تک چلا آ رہا ہے اسی طرح اسلام میں بھی خلافت کے دو دور ہیں۔ایک دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شروع ہوا۔اور اس کی ظاہری شکل حضرت علی رضی اللہ عنہ پرختم ہوگئی اور دوسرا دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے شروع ہوا۔اور اگر آپ لوگوں میں ایمان اور عمل صالح قائم رہا اور خلافت سے وابستگی پختہ ہی تو انشاء اللہ یہ دور قیامت تک رہے گا۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں میں ثابت کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایمان بالخلافتہ قائم رہا اور خلافت کے قیام کیلئے تمہاری کوشش جاری رہی تو میرا وعدہ ہے کہ تم میں سے ( یعنی مومنوں میں سے اور تمہاری جماعت میں سے ) میں خلیفہ بناتا رہوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے متعلق احادیث میں تصریح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔مَا كَانَتْ نَبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبعَتْهَا خِلَافَة“ (جامع الصغير للسيوطى) کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے۔اور میرے بعد بھی خلافت ہوگی۔اس کے بعد ظالم حکومت ہوگی پھر جابر حکومت ہوگی۔یعنی غیر قو میں آکر مسلمانوں پر حکومت کریں گی جو ز بر دستی مسلمانوں سے حکومت چھین لیں گی۔اس کے بعد فرماتے ہیں کہ پھر خلافت علی منھاج النبوة ہوگی۔یعنی جیسے نبیوں کے بعد خلافت ہوتی ہے ویسی ہی خلافت پھر جاری کر دی جائے گی۔( مشکوۃ باب الانذار والتحذير ) نبیوں کے بعد خلافت کا ذکر قرآن کریم میں دو جگہ آتا ہے ایک تو یہ ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خلافت اس طرح دی کہ کچھ ان میں سے موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی بنائے اور کچھ ان میں سے بادشاہ بنائے اب نبی اور بادشاہ بنانا تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہمارے اختیار میں نہیں۔لیکن جو تیسرا امر خلافت کا ہے وہ اس حیثیت سے کہ