خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 70
حضرت ابوبکر صدیق کی بند پار شخصیت ہمیشہ خار کی طرح کھٹکتی رہی ہے۔رومی اور ایرانی بادشاہ جو اسلام کو شروع ہی سے اپنا حریف سمجھتے تھے اپنے درباروں میں حضرت ابو جرہ کو علانیہ آنحضرت" کے وزیر کے نام سے موسوم کرتے تھے۔المخلفاء الراشدون هذا از محمد اسعد طلس مطبع اندلس بیروت لبنان (۶۱۹۵۸ آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ یہ پر منافقوں کی تہمت کا اصل سبب یہی تا کہ کفر کی تیز آنکھ دیکھ چکی تھی کہ تمام صحابہ رسول میں سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق و فدائی آپ ہی ہیں اس لئے انہوں نے مسلمانوں میں تفرقہ ، منافرت اور انتشار پھیلانے کا یہ حربہ اختیار کیا کہ حضرت ابوبکرصدیق کے تقدس اور عظمت کو پامال اور مجروح کیا جائے تا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ 6 وسلم اور مسلمانوں کی نظر سے گر جائیں مسند احمد بن حنبل جلد علہ ۳۳۳۳ مروج الذہب جلد عام اور طبری میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ اسلام کے دشمنوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق کو زہر دیگر مارنے کی بھی سازش کی تھی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اِنَّ اللهَ مَعَنَا کے خدائی وعدہ کے مطابق دشمن اسلام نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر کے نہ آپ کو۔تاہم یہ پرانی دشتی صدیوں سے چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یورپ - پاکے وہ متعقیب مصنف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ناپاک سے نا پاک اور ذلیل سے ذلیل حملے کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے منانی انشین صدیق اکبر خليفة الرسول حضرت ابو بکر کو اپنے تیروں کا نشانہ ضرور بناتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ انہیں حضرت ابو بکر صدیق کو