خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ

by Other Authors

Page 66 of 131

خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 66

۶۳ اس انداز فکر کا بی نتیجہ یہ ہے کہ مستشرقین اور مغربی مورخین جہاں اپنی مذہبی تاریخ لکھتے وقت اپنے اسلاف کے ادنی اور معمولی کاموں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور ان کو بڑی عظمت دیتے ہیں وہاں آنحضور خاتم العارفین خاتم المرسلين سيد الأولين والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی ) کی صداقت کو مشتبہ اور قوت قدسیہ کو داغدار کرنے کے لئے ایک تو نظام خلافت کو محض عرب کے سیاسی ماحول کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو ان کے نزدیک عربوں کے بلاد فارس اور مشرقی سلطنت روما کے ایک بڑے حصے پر تسلط کی پیداوار تھا جیسا کہ سر ٹامس آرنلڈ نے خلافت (THE CAILA PHATE ) میں تاثر دیا ہے دوسری طرف آپ کے جانشین اور خلیفہ بلا فضل حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کو بھی سازش ٹھہراتے ہیں اور آپ کی فتوحات کو محض ایک سیاسی عمل، اتفاق یا مادی ذرائع سے تعبیر کرتے ہیں چنانچہ ولیم اپنے ٹیکنیل WILLIAM) (H۔MCNEILL اور کارلین رونین والدیکین ROBINSON WALDMANY نے اپنی تازہ کتاب اسلامی دنیا (THE ISLAMIC WORLD) کے صفحہ ۷۵ پر اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جب پیغمبر اسلام ہی موجود نہ تھے تو یہ کیسے تمکن تھا کہ مسلمان خالق ارض و سما کی مشقت اور تقدیر کو سمجھتے اور خدا کی مرضی کے مطابق انتخاب عمل میں آسکتا ؟ فرانسیسی مستشرق لا ئینس اور ڈاکٹر فلپ جیتی نے پی مضحکہ خیز نظریہ قائم کیا ہے کہ خلافت صدیقی در اصل حضرت ابو جردن، حضرت عمر، حضرت ابو عبيدة عامر بن الجراح کی سیاسی سازش کے نتیجہ میں معرض وجود میں آئی ( ترجمہ ابو بکر (MARILYN