خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 37
#} مهم ۳ مترجم نائب حسین نقوی ناشر غلام علی اینڈ سنز لاہور فروری ۱۱۹۶۳) شوری کا حق صرف مہاجرین اور انصار کو حاصل ہے۔پس جب وہ کسی شخص کی بہوت پر جمع ہو جائیں اور اُسے امام کے نام سے موسوم کر دیں تو خدا کی رضا بھی وہی ہو جاتی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اپنے مختصر مگر جامع کلمات میں یہ بھی فرمایا کہ رضينا عن اللهِ قَضَاءَهُ وَسَلَّمُنَا لَهُ امْرَةً }۔۔فَنَظَرْتُ فِي امْرِى فَإِذَا طَاعَتِى قَدْ سَبَقَتْ بَيْعَتِي بیعی ر نهج البلاغہ خطبہ ۳۷ حصہ اول ۲۲۲، ۲۲۵ (مترجم) ناشر غلام علی اینڈ سنٹر ۶۱۹۶۳ ) یعنی ہم اللہ کی اس تقدیر پر راضی ہیں اور ہمار ا سر اس کے فیصلہ کے سامنے مجھکا ہوا ہے۔میں نے اپنے معاملہ پر غور کیا تو میرا اطاعت (خلافت) کرنا بیعت خلافت سے سبقت کر چکا تھا۔حضرت علامہ ابو جعفر ابن جریر طبری اپنی مشہور تاریخ میں بروایت حبیب بن ابی ثابت واضح لفظوں میں تحریر فرماتے ہیں :- " إِنَّ عَلِيَّا كَانَ فِي بَيْتِهِ فَالَى الَيْهِ الْخَبَرُ عَنْ جُلُوسِ ابي بَكْرِ البَيْعَةِ فَخَرَجَ فِي قَمِيْصٍ مَا عَلَيْهِ إِزَارَ قَلَا رِدَاء عَجَلا كَرَاهِيَةٌ أَنْ يُبْطِئَ عَنْهُ حَتَّى بَايَعَه ثُمَّ جَلَسَ الَيْهِ وَ بَعَثَ وَاحْضَر تَوْبَه وَتَخَلَّلَهُ وَلزِم