خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 4
فرمایا ہے مگر یکی آج بنیادی طور پر جس آیت کریمہ کو پیش کر نا چاہتا ہوں وہ فرقان حمید کی شہرۂ عالم اور معرکۃ الآراء آیت۔آیت استخلاف ہے جو سورہ نور میں درج ہے اور اس باب میں قیامت تک کے لئے روشنی کا مینار ہے۔اللہ جلشانہ وعز اسمہ فرماتا ہے :- وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ ليَستَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَا يَعْبُدُونِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الفَسِقُونَ (النور : ٥٧) یعنی " خدا نے تم میں سے بعض نیکو کار ایمان داروں کے لئے یہ وعدہ ٹھیرا رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر اپنے رسولِ مقبول کے خلیفے کرے گا۔خلیفہ کے معنے جانشین کے ہیں جو تجدید دین کرے نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں انہیں خلیفہ کہتے ہیں ، ملفوظات مسیح موعود مجلد ۲ ۳۸۳) انہیں کی مانند جو پہلے کہ تارہا ہے اور اُن کے دین کو کہ جو اُن کیلئے اسے پسند کر لیا ہے یعنی دین اسلام کو زمین پر جما دے گا اور تحکم اور قائم کر دے گا اور بعد اس کے کہ ایمان دار خوف کی حالت میں ہوں گے یعنی بعد اس وقت کے کہ جب بباعث وفات حضرت خاتم الانبیاء