خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 95
۹۲ لا اترك أَمْرًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ إِلا صَنَعْتُهُ ، بخاری شریف کتاب بدء الخلق ) اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مجھے اپنی قرابت کے مقابل بہت زیادہ محبوب ہے۔بند ایکی اِن اموال میں جو میرے اور آپ کے زیر نظر ہیں اپنی طرف سے خیر و برکت کا ثبوت دینے میں کوئی کوتا ہی نہیں کروں گا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سُنا حضور فرماتے تھے ہم وارث نہیں کئے جائیں گے ہمارا اسب ترکہ صدقہ ہو گا۔ہاں آل محمد کے خوردو نوش کا انتظام اسی مال سے ہو گا۔بغدا کی قسم میں وہ امر ہرگز نہیں چھوڑوں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اختیار فرمایا۔چونکہ یہ مبارک فیصلہ سنت نبوی کے عین مطابق اور دربار رسول سے صادر شدہ تھا اسلئے حضرت فاطمتہ الزہراڈ نے اس پیر اقتصاد خوش نودی کیا۔فرضیت عنه - الشرح نهج البلاغه لابن الحديد جلد عاطت مطبوعه (ایران) انہاں بعد دوسرے خلفاء حتی کہ رائع الخلفاء حضرت علی المرتضیٰ نے بھی اپنے مقدس عہد خلافت میں ہمیشہ اسی کے مطابق عمل در آمد کیا، چنانچہ حضرت علامہ محمد باقر مجلسی نے تحریر فرمایا ہے کہ :- " عن ابراهيم الكرخي قال سألت أبا عبد الله