خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 65

خلافة على منهاج النبوة 13 خلیفہ وقت کی اطاعت خطبه جمعه ۲۴ / جنوری ۱۹۳۶ء میں قرآن کریم کے ذوالبطون ہونے کا ذکر نے کے بعد خلیفہ وقت کی اطاعت کا مضمون سمجھاتے ہوئے فرمایا :۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ خلیفہ وقت جو کچھ کہتا ہے اُس پر عمل کرنا ضروری ہے۔اگر تو وہ سمجھتی ہے کہ خلیفہ نے جو کچھ کہا وہ غلط کہا اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا تو جو لوگ یہ سمجھتے ہوں ان کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو سمجھائیں اور اُس سے ادب کے ساتھ تبادلۂ خیالات کریں لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ اُسی طرح کام کریں جس طرح ہاتھ دماغ کی متابعت میں کام کرتا ہے۔ہاتھ کبھی دماغ کو سمجھاتا بھی ہے کہ ایسا نہ کرو۔مثلاً دماغ کہتا ہے فلاں جگہ مُکا مارو۔ہاتھ مُکا مارتا ہے تو آگے وہ زرہ کی سختی محسوس کرتا ہے اور ہاتھ کو درد ہوتا ہے۔اس پر ہاتھ دماغ سے کہتا ہے کہ اس جگہ مگا نہ مروائیں یہاں تکلیف ہوتی ہے اور دماغ اس کی بات مان لیتا ہے۔اسی طرح جماعت میں سے ہر شخص کا حق ہے کہ اگر وہ خلیفہ وقت سے کسی بات میں اختلاف رکھتا ہے تو وہ اُسے سمجھائے اور اگر اس کے بعد بھی خلیفہ اپنے حکم یا اپنی تجویز کو واپس نہیں لیتا تو اس کا کام ہے کہ وہ فرما نبرداری کرے۔اور یہ تو دینی معاملہ ہے دُنیوی معاملات میں بھی افسروں کی فرمانبرداری کے تاریخ میں ایسے ایسے واقعات آتے ہیں کہ انہیں پڑھ کر طبیعت سرور سے بھر جاتی ہے۔بیلا کلاوا کی جنگ ایک نہایت مشہور جنگ ہے۔اس میں انگریزوں کو روسی فوج کا مقابلہ کرنا پڑا۔ایک دن جنگ کی حالت میں اطلاع ملی کہ روسی فوج کا ایک دستہ حملہ کیلئے آ رہا ہے اور اُس میں آٹھ نو سو کے قریب آدمی ہیں۔اس اطلاع کے آنے پر انگریز کمانڈر نے ماتحت افسر کو حکم دیا کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ لے کر مقابلے کیلئے جاؤ۔اس افسر کو اطلاع جلد سوم