خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 64
خلافة على منهاج النبوة ۶۴ جلد سوم -d بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے مگر ان کے متعلق تو کوئی صحیح روایت ایسی نہیں جس میں ذکر آتا ہو کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے بلکہ مجموعی طور پر روایات یہی بیان کرتی ہیں کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے تھے اور صحابہ پر یہ اثر تھا کہ وہ اسلامی مرکز سے منقطع ہو چکے ہیں اسی لئے ان کی وفات پر صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے کہا فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے نزدیک ان کی موت کو بھی اچھے رنگ میں نہیں سمجھا گیا کیونکہ یوں تو ہر ایک کو فرشتہ ہی مارا کرتا ہے۔ان کی وفات پر خاص طور پر کہنا کہ انہیں فرشتوں نے یا جنوں نے مار دیا بتا تا ہے کہ ان کے نزدیک وفات ایسے رنگ میں ہوئی کہ گویا خدا تعالیٰ نے انہیں اپنے خاص فعل سے اُٹھالیا کہ وہ شقاق کا موجب نہ ہوں۔یہ تمام روایات بتلاتی ہیں کہ ان کی وہ عزت صحابہ کے دلوں میں نہیں رہی تھی جو ان کے اس مقام کے لحاظ سے ہونی چاہئے تھی جو کبھی انہیں حاصل تھا اور یہ کہ صحابہ ان سے خوش نہیں تھے ورنہ وہ کیونکر کہہ سکتے تھے کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا بلکہ ان الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ ان کی وفات پر کہے گئے ہیں جنہیں میں اپنے منہ سے کہنا نہیں چاہتا۔پس یہ خیال کہ خلافت کی بیعت کے بغیر بھی انسان اسلامی نظام میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتا ہے واقعات اور اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور جو شخص اس قسم کے خیالات اپنے دل میں رکھتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ بیعت کا مفہوم ذرہ بھر بھی سمجھتا ہو۔“ ( خطبات محمود جلد ۱۶ صفحه ۹۰ تا ۱۰۱) د الغابة الجزء الثانی صفحه ۲۵۸ زیر عنوان ” سعد بن عبادة، مطبوعہ بیروت النور: ۵۶ تاریخ طبری جلد ۳ صفحه ۱۶۵۔مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء